سانحہ چلاس

سانحہ چلاس

تین اپریل 2012ء کو چلاس کے مقام پر اسکردو جانے والی بسوں کو اسلحہ بردار دہشتگردوں نے دن دیہاڑے روک کر مسافرین کا شناختی کارڈ دیکھ دیکھ ایک درجن کے قریب شیعہ مسافرین کو گولیوں سے چھلنی کردیا گیا۔ اس دوران دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے جم غفیر بھی پتھروں اور ڈنڈوں سے حملے آور ہوئے، تین سے چار گھنٹے تک قیامت خیز مناظر چشم فلک نے دیکھا اور اسی دوران سکیورٹی ادارے تماشائی بنے رہے۔ اس واقعے میں شہید ہونے والے افراد کی لاشیں چار روز بعد اسکردو پہنچائی گئیں۔

ہفتوں تک اس ظلم کے خلاف صدائے احتجاج بلند ہوتے رہے۔ لیکن نہ صرف ان دہشتگردوں کے سہولت کاروں کے خلاف کوئی کارروائی ہوئی بلکہ دہشتگردوں کی ویڈویوز منظرعام پر آنے کے باوجود ان کو سزائیں تاحال نہیں ہوسکیں۔ سانحہ چلاس کو پیش آئے آٹھ سال کا طویل عرصہ گزرنے کے باوجود اس سانحے کے مرکزی کرداروں اور دہشتگردوں کو تختہ دار پر نہ لٹکانا عدلیہ، ایکشن پلان اور سکیورٹی اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔