انٹرویو سید حسین رضوی، فرزند شہید علامہ ضیاء الدین رضویؒ

سلام علیکم ورحمۃاللہ

دفترقائد ملت جعفریہ قم المقدسہ حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کی جانب سے آپ کے شکرگزار ہیں کہ آپ نے اپنے قیمتی لمحات اور قیمتی اوقات سے ہمیں وقت عنایت فرمایا۔ دفتر قائد ملت جعفریہ (قم المقدسہ) شہید راہ ولایت علامہ سید ضیاءالدین رضوی رضوان اللہ تعالی علیہ کے عنوان سے ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد کررہا ہے۔ ہم اسی حوالے سے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے ہیں، کیونکہ آپ ان کے فرزند ہیں ان کی شخصیت اور زندگی کے مختلف پہلووں کے حوالے سے آپ سے استفادہ کیا جا سکتا ہے۔ اس حوالے سے ہمارا پہلا سوال ہے: شہید راہ ولایت کی شہادت کے وقت آپ کی عمر کتنی تھی اور اس وقت آپ کے کیا احساسات تھے؟

سید حسین رضوی : اعوذ باللہ من الشیطان الرجیم بسم اللہ الرحمن الرحیم۔ سب سے پہلے میں آپ تمام برادران اور دفتر قائد ملت جعفریہ کا شکریہ ادا کرتا ہوں کہ آپ نے زحمت کی اور یہاں تشریف لائے۔ شہید کی شہادت کے وقت میری عمر سترہ سال تھی۔ اس وقت پوری ملت تشیع پریشان تھی اور تمام افراد مضطرب تھے ، وہی کیفیت ہماری بھی تھی ۔ ذاتی طور پہ کوئی ایسی پریشانی نہیں تھی لیکن اجتماعی حوالے سے تمام لوگ پریشان تھے کیونکہ یہ شہادت کا واقعہ ایک ایسا واقعہ تھا شاید اس کے بارے میں کسی نے سوچا بھی نہیں تھا کہ شہید کے ساتھ کبھی ایسا سانحہ رونما بھی ہوسکتا ہے۔ اس حوالے سے تمام افراد پریشان تھے ، ہم بھی ملت کے دیگر افراد کی طرح پریشان تھے۔

سوال : شہید کے فرزندان یعنی آپ کے کتنے بہن بھائی ہیں اور شہید رحمۃ اللہ علیہ کی تربیت کے اسلوب اور اولاد کی تربیت کے اسلوب کے حوالے سے کچھ فرمائیے؟

سید حسین رضوی : شہید کے کل پانچ فرزند ہیں ، میرے علاوہ میرے دو بھائی اور دو بہنیں ہیں۔ اکثر وہ کوشش کرتے تھے کہ تربیتی لحاظ سے دینی معارف اور احکام سے آگاہ کریں۔ وہ خود ہمیں توضیح المسائل پڑھاتے تھے اور ایک دوسری عقائد کی کتاب تھی جو ہم بہن بھائیوں کو گھر میں پڑھایا کرتے تھے اور کوشش کرتے تھے کہ ہم دینی معارف سے آگاہ ہوں اور اپنی شرعی تکالیف و عقائد کو اچھی طرح سمجھ لیں۔

سوال: شہید رضوان اللہ تعالی جب گلگت گئے تو عوامی مقبولیت کا ایک سیلاب امڈ آیا۔ جوان، بوڑھے، بچے، خواتین اور ان میں ایک ولولہ اور انقلاب آیا۔ پوری ملتِ گلگت بلتستان حتی کہ پاکستان کے بہت سارے لوگوں کی نظریں شہید کی طرف تھیں، اس حوالے سے آپ کیا فرمائیں گے کہ شہید کی مقبولیت اور ان کی عوامی پذیرائی و کامیابی کی اصل وجہ کیا تھی؟

سید حسین رضوی : شہید کے جو دوست احباب شہید کے ساتھ رہے ہیں ان سے میں نے سنا ہے اور اگر آپ خود بھی شہید کی زندگی کا تجزیہ کریں تو یہ نکتہ آپ کو واضح طور پر نظر آئے گا۔ ان کی کامیابی اور مقبولیت کا جو اصل راز تھا وہ شاید ان کا تقوی تھا اور دوسری بات یہ کہ شہید اہل عمل تھے، زمانہ شناس تھےیعنی وہاں پہ جب کوئی ایشو اٹھتا تھا اور مختلف مسائل جو ہوتے تھے ان میں شہید خود صف اول میں ہوتے تھے۔ ایسا نہیں تھا کہ وہ عوام سے کہیں یا جوانوں سے کہیں کہ آپ احتجاج کریں یا آپ روڈ پہ نکلیں ، اس طرح کی کوئی بات نہیں تھی ۔ جب بھی کوئی ایشو ہوتا تھا مختلف واقعات میں وہ خود صف اول میں ہوتے تھے ۔ گلگت میں رسم یہ ہے کہ ائمہ کی ولادت پہ پہاڑوں پہ چراغاں ہوتا ہےتو ایک دفعہ حکومت نے پہاڑوں پہ چراغاں کی اجازت نہیں دی گرچہ سالوں سے وہاں پہ چراغاں ہورہا تھا لیکن ایک سال حکومت نے کوشش کی کہ چراغاں نہ ہو تو اس وقت خود شہید گئے پہاڑ پہ چراغاں کرنے کے لئے اور خود چراغاں کرکے وہاں سے لوٹے۔ اسی طرح ہنزہ میں ایک واقعہ پیش آیا جہاں شیعوں کو مسجد بنانے نہیں دے رہے تھےپھر ایک تحریک چلی چلو چلو ہنزہ چلو کے نام سے، اس تحریک میں بھی شہید سب سے آگے تھے اور خود ہنزہ چلے گئے۔ اسی طرح دوسرے واقعات میں جہاں کہیں بھی ایسا کوئی واقعہ ہوتا تھا تو خود شہید صف اول میں ہوتے تھے ۔ یہ عوامل تھے ان کا تقوی اور میدان عمل میں سب سے آگے ہوتے تھے اس وجہ سے لوگوں میں ان کی مقبولیت یا لوگوں کی جو محبتیں تھیں وہ ان کے ساتھ بہت زیادہ تھیں۔

سوال : الحمدللہ شہید نے جو بابرکت زندگی گزاری وہ ان کی فعالیت پر بین دلیل ہے جو ایک طولانی موضوع ہے ہم فقط آپ سے درخواست گزار ہیں کہ ان کی زندگی کی فعالیت و اقدامات کے چند ایک اہم پہلووں پہ روشنی ڈالیے؟

سید حسین رضوی : جب شہید گلگت تشریف لے گئے تھے اس وقت ۱۹۸۸؁ء کا سانحہ رونما ہوچکا تھا ۔ ۱۹۸۷؁ءچونکہ میری پیدائش ہے تو بزرگان اور علماء سے جو باتیں سنی ہیں وہ میں آپ کو بیان کروں گا۔ اس وقت گلگت کے حالات انتہائی خراب تھے، اجتماعی طور پہ مومنین میں مایوسی کا عالم تھا ، گرچہ علماء اپنی توانائی کے مطابق وہاں پہ کوشش کر رہے تھے لیکن ایسی کوئی شخصیت نہیں تھی کہ جو آگے بڑھے اور سیاسی مذہبی حقوق کا دفاع کرسکے۔دوسری طرف تکفیری عوامل اور گروہوں کی جانب سے کفر کے فتوے بھی لگ رہے تھے ۔ شہید جب گلگت تشریف لے گئے تو سب سے پہلا جو کام کیا انہوں نے جوانوں اور ملت میں اتحاد قائم کیا۔ سب سے پہلے خود شہید نے ہی وہاں پہ نماز جمعہ قائم کی اس سے پہلے وہاں نماز جمعہ نہیں ہوتی تھی شہید نے پہلی دفعہ گلگت میں نماز جمعہ پڑھائی ۔ ااگر آپ دیکھیں تو ۱۹۸۸؁ء اور ۱۹۹۴؁ء کے درمیان کچھ زیادہ فاصلہ نہیں ہے۔ سانحہ ۸۸؁ء کے بعد ملت جو ایک مایوسی کے عالم میں تھی وہ پھر مختصر عرصے کے بعد ۱۹۹۴؁ء میں ایسی پوزیشن میں آتی ہے کہ وہ گلگت بلتستان میں اپنی حکومت بناتی ہے۔۱۹۹۴؁ء کے الیکشن میں تحریک جعفریہ نے اپنی حکومت بنائی۔

اور کفر و تکفیر کے جو نعرے لگتے تھے اس حوالے سے عرض کروں کہ شہید اتحاد بین المسلمین کے بہت بڑے حامی تھے اور انہوں نے اس حوالے سے کافی کوششیں بھی کیں۔ مخالفین کو اس حوالے سے مسلسل اتحاد کی دعوت دی جاتی تھی اور وہ اتحاد بین المسلمین کیلے منعقد ہونے والے تمام پروگرامز میں شریک ہوتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ جب گلگت میں ایک مولوی نے اہل تشیع کے ہاتھ سے ذبح ہونے والے جانور کو کھانا حرام قرار دیا تو شہید نے اپنے گھر میں اہلسنت علماء کو دعوت دی اور وہ سب تشریف لائےجس کےنتیجے میں جو فضا قائم ہوئی تھی کفر و تکفیر کے جو فتوے لگ رہے تھے، عوامی سطح پر دشمنی بڑھ رہی تھی شہید نے اسے ختم کرنے کی کوشش تھی۔اس کے علاوہ جو کفر کے فتوے لگ رہے تھے اس دوران شہید نے اتحاد بین المسلمین کی فضا کو برقرار رکھتے ہوئے یہ کوشش کی کہ وہ تکفیری مولویوں کو مناظرے کی دعوت دیں وہ بھی تفرقے کے انداز یا فضا میں نہیں بلکہ شہید یہ کہتے تھے کہ اگر ہمارا عقیدہ غلط و باطل ہے تو آپ ہمارے پاس آئیں دلیل کے ساتھ ثابت کریں ، اگر آپ ہمارے پاس نہیں آسکتے تو مجھے کوئی جگہ بتا دیں اپنی مسجد میں یا کسی اور جگہ میں آپ کے پاس آوں گا، میں آپ کو بتاوں گاکہ ہمارے عقائد کیا ہیں۔ اس کے علاوہ شہید کا سب سے بڑا اقدام نصاب تعلیم کے حوالے سے تھاانہوں نے اپنی توانائی کے مطابق کوشش کی کہ نصاب تعلیم میں اصلاح کروائیں۔ کیونکہ اس نصاب تعلیم کی وجہ سے جوانوں کے عقائد پہ بہت زیادہ منفی اثر پڑ رہا تھا اس لئے انہوں نے کوشش کی کہ سب کے لئے قابل قبول نصاب مرتب ہو اور ملت تشیع کے عقائد کے خلاف جو مواد نصاب تعلیم میں شامل ہہے وہ اس نصاب سے اٹھایا جائے۔ یہ تحریک انہوں نے چلائی اور کوشش کی کہ یہ مسئلہ حل ہوسکے اور اس کے لئے بھرپور کوششیں کیں لیکن خدا کو کچھ اور منظور تھا اور اس سے پہلے وہ شہید ہوگئے۔

سوال : آپ نے شہید کی تحریک نصاب تعلیم کے حوالے سے فرمایا کہ وہاں پہ جو حالات اور معروضی حقائق تھے اس کے پیش نظر شہید نے تحریک نصاب تعلیم کو شروع کیا ۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ اس وقت تحریک جعفریہ اور قائدملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی نےتحریک نصاب تعلیم میں شہید کا ساتھ نہیں دیا تھا جس کی وجہ سے شہید نے تحریک جعفریہ اور قائدملت جعفریہ سے دوری و علحیدگی اختیار کی تھی ۔ اس حوالے سے آپ کیا فرمائیں گے؟

سید حسین رضوی : یہ باتیں محض ایک پروپیگنڈا اور افواہ ہے جس کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں۔ اور یہ باتیں انہیں افراد نے پھیلائی ہیں جو شہید کی زندگی میں ان کے مخالف تھے، نصاب تعلیم کا جو مسئلہ تھا وہ محض ایک مذہبی ایشو تھا لیکن شہید کے جو مخالفین تھے انہوں نے حتی اس مسئلے میں بھی کوشش کی کہ شہید کے لئے مشکلات کھڑی کریں اور جو بات آپ نے کہی کہ بعض لوگ یہ کہتے ہیں تحریک جعفریہ کا ساتھ نہیں تھا تو اس وقت جو افراد نصاب تعلیم کی تحریک میں شہید کے ساتھ تھے وہ سب تحریک جعفریہ کے عہدیدار تھے اور وہی ہر موقع پر شہید کے ساتھ تھے مثلا مرحوم شہید غلام حیدر نجفی، شیخ مرزا علی نگری صاحب، دیدار علی صاحب وغیرہ یہ سب تحریک جعفریہ کے عہدیدار تھے جو نصاب تعلیم کی تحریک میں صف اول میں شامل تھے۔جب بھی مشکلات آتی تھیں کوئی بھی ایشو ہوتا تھا تو شہید انہی افراد کو مسائل کے حل کے لئے اور مذاکرات کے لئے بھجواتے تھے ۔ ایسی بات ہم نے خود شہید سے کبھی نہیں سنی یا شہید کے نزدیک جو افراد تھے ان میں سے کسی سے ہم نے یہ بات نہیں سنی کہ شہید کے قائد ملت جعفریہ کے ساتھ یا تحریک جعفریہ کے ساتھ کوئی اختلافات تھے۔شہید کا انٹرویو جو شہادت سے کچھ عرصہ قبل کراچی میں انہوں نے دیا تھا اس میں وہ واضح اور شفاف طور پہ کہہ رہے کہ قائد محترم نے نصاب تعلیم کے مسئلے میں میرا ساتھ دیا ہے۔ یہ باتیں شہید کی زندگی میں جو لوگ مخالف تھے انہی کی طرف سے پھیلائی ہوئی ایک افواہ ہےاور اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے۔

سوال : آپ نے فرمایا کہ شہید نے ۱۹۸۸؁ء سے ۱۹۹۴؁ء کے درمیان چھ سال سے بھی مختصر عرصے کی ان کی جدوجہد تھی کہ تحریک جعفریہ اور ملت تشیع کی حکومت قائم ہوئی۔ اس حوالے سے شہید کا جو مبنی اور ذاتی نظریہ کیا تھاکہ مذہبی لوگوں کو میدان سیاست میں آنا چاہئےیا نہیں؟ اس حوالے سے شہید کا ذاتی نظریہ کیا تھا؟

سید حسین رضوی: شہید کی عملی زندگی کو اپ دیکھیں تو یی معلوم ہوتا ہے کہ شھید مذہبی سیاست کے حامی تھےکیوں کہ اگر وہ قائل نہ ہوتے مذہبی سیاست کے تو میدان سیاست میں وارد بھی نہ ہوتے، لیکن ان کا جو نظریہ تھا اس حوالے سے خصوصا گلگت بلتستان اور پاکستان کے جو حالات تھے ان میں وہ یہ چیز ناگزیر سمجھتے تھے کہ مذہبی جو افراد ہیں وہ سیاست میں وارد ہوں کیونکہ وہاں کی سیاست میں اگر آپ اپنے حقوق حاصل کرنا چاہیں تو پھر آپ کے لئے ضروری ہے کہ آپ سیاست کے اندر وارد ہوں ۔ دوسری جو پارٹیاں ہیں ان میں گرچہ شیعہ افراد موجود ہیں لیکن وہ ملت تشیع کے اوپر جو مظالم ہوتے تھے یا ملت تشیع کے جو حقوق ہیں ان کےدفاع کے لئے وہ آواز نہیں اٹھاتے تھے۔ اس صورت حال میں شہید اپنے لئے لازمی اور ضروری سمجھتے تھے کہ میدان سیاست میں وارد ہوں.

سوال : اگر دیکھا جائے تو اختصار کے ساتھ شہید کی زندگی میں اہم اہداف جو تھے کیا ان کا حصول ممکن ہوا ہے؟ ان کی شہادت کے بعد ان کے مشن اور اہداف کو زندہ رکھنے میں ، ان کے حصول میں کیا ہم کامیاب ہوگئے ؟ اگر نہیں ہوئے تو اس کے علل و اسباب کیا ہیں ؟

سید حسین رضوی : شہید جب تک خود زندہ تھے ان کی کوشش یہی تھی کہ ملت تشیع کے اجتماعی حقوق ، عقیدتی حقوق اور سیاسی حقوق کا دفاع کیا جائے اور شہید اپنی زندگی میں اس حوالے سے کامیاب بھی تھے۔ یہ ضروری نہیں ہے کہ جتنے مسائل ہیں سب حل ہوجائیں لیکن شہید میدان میں موجود تھے اور کوشش کر رہے تھےجب تک زندہ تھے وہ کامیاب رہے ۔ مثلا نصاب کا مسئلہ یا دیگر جو مسائل تھے ان میں شہید کامیاب تھےجس کی وجہ سے گلگت بلتستان میں ملت تشیع کی پوزیشن بہت مستحکم اور مضبوط تھی۔ خود شہید اپنے ایک خطاب میں فرماتے ہیں کہ : حکومت کوئی بھی فیصلہ لینا چاہے تو اس سے پہلے یہ بات مدنظر رکھتی ہے کہ ملت تشیع کا اس فیصلے پر ردعمل کیا ہوگا۔

لیکن اب ان کی شہادت کے بعد آپ پوچھیں کہ ہم شہید کے راستے پر ہیں یا نہیں ؟ ان کے اہداف کو حاصل کرپائے ہیں یا نہیں ؟ اس حوالے سے میری ذاتی رائے یہ ہے کہ آج ہم نہ صرف شہید کے راستے پر نہیں ہیں بلکہ شہید کے دکھائے گئے راستے سے منحرف ہوگئے ہیں یعنی شہید اگر دائیں طرف جارہے تھے تو ہم بالکل اس کے برعکس بائیں طرف جارہے ہیں اس وقت ایسے حالات ہیں۔ میں پاکستان کی بات نہیں کررہا میں گلگت بلتستان کی خصوصا گلگت کی بات کر رہا ہوں کہ ہم مکمل طور پہ شہید کے راستے کی مخالف سمت میں حرکت کر رہے ہیں اور شہید کے مشن و اہداف سے روز بروز دور ہوتے جارہے ہیں۔ اسی وجہ سے ہم گلگت میں مختلف مشکلات کا شکار بھی ہیں اور اس کی جو اصل وجہ ہے وہ بھی یہی ہے کہ جو راستہ شہید نے ہمیں بتایا تھا ہم اس راستے سے منحرف ہوئے ہیں۔

سوال : کیونکہ تاریخ کا ایک اہم باب ہے اور مسلمہ چیز ہے کہ شہید راہ ولایت رضوان اللہ تعالی قومی جماعت تحریک جعفریہ کے ساتھ منسلک تھے۔ ہم یہ پوچھنا چاہیں گے باقاعدہ طور پر تحریک جعفریہ میں انہوں نے کب شمولیت کی اور قومی جماعت و قائد ملت جعفریہ کے ساتھ ان کی کس حد تک وابستگی تھی ؟

سید حسین رضوی : تحریک جعفریہ میں کب شمولیت اختیار کی تھی اس کا مجھے علم نہیں ہے لیکن قیادت کے ساتھ جو رابطے کا تعلق ہے تو شہید ان افراد میں سے تھے جو نمائندگی ولی فقیہ کے بارے میں سوال کرنے کے لئے رہبر معظم کے پاس تشریف لائے تھے اور اس بارے میں سوال کیا تھا۔ اس وفد میں چند ہی افراد تھے جن میں سے ایک شہید تھے۔ جب رہبر معظم کی جانب سے قائد ملت جعفریہ کی نمائندگی تائید ہوئی تھی اس کے بعد شہید ہمیشہ قائد کے ساتھ ہی رہے ہیں۔ پچھلے سوال میں بھی یہ نکتہ عرض کیا تھا کہ شہید ہمیشہ قیادت کے ساتھ وابستہ رہے ہیں۔ نصاب کے حوالے سے بھی مختلف حوالوں سے ، سرکاری سطح پہ بھی میٹنگز وغیرہ کا انعقاد ہوتا تھا تو شہید قائد محترم کے پاس تشریف لے جاتے تھے اور قائد کے ساتھ مشاورت کے بعد ہی میٹنگز وغیرہ میں تشریف لے جاتے تھے۔ ایک نکتہ جو پچھلے سوال کے متعلق عرض کرنا چاہتا ہوں وہ یہ کہ میں نے خود شہید کا ایک لیٹر پڑھا تھا جس میں شہید نے ایک مدرسے کے منتظمین سےشکوہ کیا تھا ۔حکومت نے نصاب کی تحریک کو کمزور کرنے کے لئے کسی مدرسے کے بعض بزرگان کو بلایا تھا اور ان کے ساتھ کوئی معاہدہ کیا تھاتاکہ گلگت میں جو تحریک چل رہی تھی اس کو نقصان پہنچایا جائے۔ شہید نے اس مدرسے کو ایک خط لکھا تھا جس میں انہوں نے یہ بات کہی تھی کہ اگر آپ ہماری مدد نہیں کرسکتے توکم از کم ہمارے موقف کو نقصان نہ پہنچائیں، ہماری تحریک کو کمزور نہ کریں۔ اگر قیادت کے حوالے سے ایسا کوئی ایشو ہوتا حتما شہید اپنی کسی تحریر یا تقریرمیں عرض کرتے۔ شہید ہمیشہ قیادت کے ساتھ مربوط رہے ہیں ، پرویز مشرف کے دور میں جب قائد محترم کو گرفتار کیا گیا تو اس وقت خود شہید قائد کی رہائی کے لئے گلگت میں مختلف احتجاجی جلسوں کا انعقاد کرتے تھےاور ان میں خود صف اول میں شریک ہوتے تھے۔ بعض علماء کی طرف سے دھرنا دیا گیا یا مختلف احتجاجی ریلیاں نکالی گئی ان سب میں خود شہید شریک ہوتے تھے۔ اس بات میں کوئی حقیقت نہیں ہے کہ شہید کے قیادت کے ساتھ یا تحریک جعفریہ کے ساتھ کوئی اختلافات تھے۔

سوال : جس طرح آپ نے ملت تشیع کے حوالے سےمختلف مشکلات کی طرف اشارہ فرمایا ۔ شہید کی ذات یقینا ہمارے لئے اسوہ ہے اور ہمارے لئے ایک آئیڈیل ہے۔ اس حوالے سے آپ کی نظر میں شہید کے کن افکارو نظریات کو احیاء کرنے کی ضرورت ہےجن پر عمل پیرا ہوکر ملت تشیع اپنی مشکلات کو دور کرسکے؟

سید حسین رضوی : شہید کی زندگی میں جو چیز بہت زیادہ اہم تھی وہ یہ کہ وہ زمان شناس تھے اور وظیفہ شناس تھے۔ زمانے کو وہ پہچانتے تھے اور اپنے وظیفے کو تشخص دے کر اس پر وہ عمل کرتے تھے۔ جو تمام باتیں میں نے عرض کیں آپ کی خدمت میں ان سب کے پیچھے غالبا یہی دو نکتے تھے، ایک تو وہ اپنے زمانے سے آگاہ تھے اور دوسری بات یہ کہ اپنے وظیفے کو جو انہوں نے مشخص کیا تھاکوشش کرتے تھے کہ اس وظیفے کو انجام دیں۔ ہمارے لئے بھی میری نظر میں یہی چیز زیادہ مہم ہے کہ زمان شناسی اور وظیفہ شناسی اس کے بعد اپنے وظیفے پہ عمل کرنا۔ یہ میرے خیال میں شہید کی زندگی کے دو اہم رکن تھے جن پہ وہ عمل پیرا تھے۔

سوال : دفتر قائد ملت جعفریہ اکتیس جنوری دو ہزار انیس قم المقدسہ کے اندر شہید کے افکار کو زندہ کرنے کے لئے ایک عظیم الشان کانفرنس منعقد کررہا ہے ۔ اس حوالے سے آپ اپنا کیا پیغام دینا چاہیں گے ؟

سید حسین رضوی : سب سے پہلے میں شکریہ ادا کرتا ہوں دفتر نمائندہ ولی فقیہ قم المقدسہ میں موجود تمام برادران کا جنہوں نے زحمت کی اور یہ کانفرنس منعقد کروائی ہے۔ ایک اہم نکتہ جو میں اکثر دیگر دوستان کو بھی کہتا رہتا ہوں کہ اس وقت جس چیز کی ضرورت ہے وہ شہید کے افکار کو منعکس کرنے کی ضرورت ہے ۔ شہید کا نام زندہ ہے لیکن شہید کے اصل افکار مخفی ہیں ، پس پردہ چلے گئے ہیں ۔ اس چیز پر کوشش کی جائے کہ ان کے جو افکار تھے جو نظریات تھے ان کو اجاگر کیا جائے ۔شاید یہ ایک بہت بڑی خدمت ہوگی ملت تشیع کے لئے۔