علمی اعتبار سے شہید گلگت میں علما کے درمیان مانی ہوئی شخصیت تھی۔ انہوں نے ۶ سال تک پاکستان کے دینی مدارس میں کسب علم کیا ۔اس کے بعد ۱۰ سال تک حوزہ علمیہ قم میں علوم آل محمد کے زیور سے آراستہ ہوئے اور انہی ۱۶ سال کے مختصر عرصے میں شہید نے واقعاً علم کا سمندر اپنے اندر سمو لیا ۔ کیوں نہ علم کا سمند ر ہوتے جبکہ قم میں انہوں نے آیت اللہ فاضل لنکرانی، آیت اللہ میرزا جواد تبریزی اور آقای کاشانی اور حسین خرم آبادی جیسی شخصیات سے کسب فیض کیا۔ اگرچہ شہید کی مدت تحصیل بہت کم اور مختصر تھی لیکن انہوں نے اس مختصر عرصے میں بہت ہی محنت کے ساتھ علم حاصل کیا ۔ جو استعداد خدا نے انہیں دی تھی واقعاً وہ اسے بروی کار لائے جس کے نتیجے میں وہ ایک ماہر استاد، توانا خطیب اور قوی مناظر کے طور پر معاشرے میں ابھرے۔ اس سلسلے میں آپ کے نماز جمعہ کے خطبوں سے بعض جملے نقل کئے جاتے ہیں:

’’ میں نے کئی بار کہا ہے اور اب بھی اعلان کرتا ہوں کہ آجاؤ وہابیو مجھ سے شیعہ مذہب کے بارے میں وضاحت طلب کرو یا ثابت کرو کہ سنی مذہب حق ہے یا مجھے اجازت دو تاکہ ثابت کروں کہ مذہب شیعہ حق ہے، اور اگر میں اس مناظرے میں ہار گیا تو پوری شیعہ قوم کو لیکر اہل سنت مذہب اختیار کروں گا‘‘۔