شہید سید ضیاء الدین رضوی سادگی کے ساتھ زندگی گزاتے تھے ۔انہیں ان کے والد بزرگوار کی طرف سے تھوڑی سی زمین وراثت میں ملی تھی۔ ان کی سادہ زیستی کی ایک مثال یہ ہے کہ جب انہوں نے ۱۹۹۰ میں جامع مسجد گلگت کے امام جمعہ و الجماعت کی ذمہ داری قبول کی تو مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی تھوڑی بہت رقم کو بھی انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا حالانکہ اس وقت ان کی کوئی ذاتی انکم نہیں تھی۔ اسی طرح انہیں مختلف دینی مدارس میں اچھی تنخواہ کے ساتھ تدریس کرنے کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے اسے ٹھکرا دیا اور دوسری طرف سے لندن میں بھی کسی مدرسے کی مسولیت سنبھالنے کی دعوت دی گئی لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔ اور ہر طرح کے خوف میں گھرے ہوئے گلگت میں رہ کر مقامی مومنین کی خدمت کرنے کو ترجیح دی تا کہ وہاں رہ کر بکھری ہوئی قوم کو متحد کرسکیں۔

ان کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ محرم الحرام کا عشرہ پڑھنے کے بعد معمولا علما حضرات کو تھوڑی بہت رقم دی جاتی ہے وہ اسے بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ اور اگر کوئی انہیں ہدیہ دیتا تو اسے فقرا میں تقسیم کر دیتے تھے۔حجت الاسلام جناب زمانی کا کہنا ہے کہ آیت اللہ صافی گلپائگانی کے دفتر کی طرف سے ۲۰۰۰ ڈالر آقای ضیاء الدین کے ذاتی مخارج کے لئے بھیجے تھے اور شہید نے اسے کہیں خرچ نہیں کیا تھا حتی که ان کی شہادت کے بعد بھی وہ ۲۰۰۰ ڈالر باقی پڑے تھے، ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ شہید مال امام کو صرف کرنے میں کتنا احتیاط کرتے تھے۔