شہید کے مختلف شخصیتی پہلو

الف : شہید کی فردی خصوصیات :
شہید سید ضیاء الدین رضوی سادگی کے ساتھ زندگی گزاتے تھے ۔انہیں ان کے والد بزرگوار کی طرف سے تھوڑی سی زمین وراثت میں ملی تھی۔ ان کی سادہ زیستی کی ایک مثال یہ ہے کہ جب انہوں نے ۱۹۹۰ میں جامع مسجد گلگت کے امام جمعہ و الجماعت کی ذمہ داری قبول کی تو مسجد کی انتظامیہ کی طرف سے دی جانے والی تھوڑی بہت رقم کو بھی انہوں نے قبول کرنے سے انکار کیا حالانکہ اس وقت ان کی کوئی ذاتی انکم نہیں تھی۔ اسی طرح انہیں مختلف دینی مدارس میں اچھی تنخواہ کے ساتھ تدریس کرنے کی پیش کش کی گئی لیکن انہوں نے اسے ٹھکرادیا اور دوسری طرف سے لندن میں بھی کسی مدرسے کی مسولیت سنبھالنے کی دعوت دی گئی لیکن انہوں نے قبول نہیں کیا۔ اور ہر طرح کے خوف میں گھرے ہوئے گلگت میں رہ کر مقامی مومنین کی خدمت کرنے کو ترجیح دی تا کہ وہاں رہ کر بکھری ہوئی قوم کو متحد کرسکیں۔ ان کی ایک اور خصوصیت یہ تھی کہ محرم الحرام کا عشرہ پڑھنے کے بعد معمولا علما حضرات کو تھوڑی بہت رقم دی جاتی ہے وہ اسے بھی قبول نہیں کرتے تھے۔ ۲۴؂ اور اگر کوئی انہیں ہدیہ دیتا تو اسے فقرا میں تقسیم کر دیتے تھے۔حجت الاسلام جناب زمانی کا کہنا ہے کہ آیت اللہ صافی گلپائگانی کے دفتر کی طرف سے ۲۰۰۰ ڈالر آقای ضیاء الدین کے ذاتی مخارج کے لئے بھیجے تھے اور شہید نے اسے کہیں خرچ نہیں کیا تھا حتی که ان کی شہادت کے بعد بھی وہ ۲۰۰۰ ڈالر باقی پڑے تھے، ان مثالوں سے پتہ چلتا ہے کہ شہید مال امام کو صرف کرنے میں کتنا احتیاط کرتے تھے۔

ب : شہید کی علمی خصوصیات
علمی اعتبار سے شہید گلگت میں علما کے درمیان مانی ہوئی شخصیت تھی۔ انہوں نے ۶ سال تک پاکستان کے دینی مدارس میں کسب علم کیا ۔اس کے بعد ۱۰ سال تک حوزہ علمیہ قم میں علوم آل محمد کے زیور سے آراستہ ہوئے اور انہی ۱۶ سال کے مختصر عرصے میں شہید نے واقعاً علم کا سمندر اپنے اندر سمو لیا ۔ کیوں نہ علم کا سمند ر ہوتے جبکہ قم میں انہوں نے آیت اللہ فاضل لنکرانی، آیت اللہ میرزا جواد تبریزی اور آقای کاشانی اور حسین خرم آبادی جیسی شخصیات سے کسب فیض کیا۔ اگرچہ شہید کی مدت تحصیل بہت کم اور مختصر تھی لیکن انہوں نے اس مختصر عرصے میں بہت ہی محنت کے ساتھ علم حاصل کیا ۔ جو استعداد خدا نے انہیں دی تھی واقعاً وہ اسے بروی کار لائے جس کے نتیجے میں وہ ایک ماہر استاد، توانا خطیب اور قوی مناظر کے طور پر معاشرے میں ابھرے۔  اس سلسلے میں آپ کے نماز جمعہ کے خطبوں سے بعض جملے نقل کئے جاتے ہیں:

’’ میں نے کئی بار کہا ہے اور اب بھی اعلان کرتا ہوں کہ آجاؤ وہابیو مجھ سے شیعہ مذہب کے بارے میں وضاحت طلب کرو یا ثابت کرو کہ سنی مذہب حق ہے یا مجھے اجازت دو تاکہ ثابت کروں کہ مذہب شیعہ حق ہے، اور اگر میں اس مناظرے میں ہار گیا تو پوری شیعہ قوم کو لیکر اہل سنت مذہب اختیار کروں گا‘‘۔

ج : تدریس
شہید حوزہ علمیہ قم میں تحصیل کے ساتھ ساتھ طلاب کو پڑھاتے بھی تھے۔ گلگت شہر میں بھی ایک مدرسہ تھا جس میں شہید تدریس کیا کرتے تھے۔بعض طلبا اپنا درس شہید کے گھر میں رکھتے تھے۔ اور تقریبا دو سال تک مرحوم صفدر حسین نجفی کے حکم سے لندن کے ایک مدرسے میں جو جامعہ المنتظر کی شاخ تھا، تدریس کیا کرتے تھے اور وہاں کے بہت سے طلاب کی تربیت کی۔

د : تبلیغ
حقیقت میں شہید بچپن ہی سے دین اسلام کی تبلیغ میں سرگرم رہے۔ بچوں کو قرآن مجید پڑھایا کرتے تھے ۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کو انجام دیتے تھے۔ حوزہ علمیہ قم میں وارد ہونے کے بعدماہ مبارک رمضان اور محرم الحرام میں تبلیغ دین کی خاطر اپنے علاقے کی طرف جاتے تھے۔جب آپ حوزہ علمیہ قم میں حصول علم میں مشغول تھے تو مرحوم سید صفدر حسین نجفی نے آپ کو تبلیغ کے لئے لندن بھیجا دو سال تک انہوں نے لندن میں تدریس اور تبلیغ کے فرائض انجام دئے، ان کی علمی صلاحیت، تقوا اور پارسائی کو دیکھ کر دنیا کے مختلف علاقو ں سے ان کو تدریس اور تبلیغ کرنے کی پیشکش آئی لیکن انہوں نے ان سب کو ٹھکرا کر اپنے آشوب زدہ علاقے کے مظلوم مومنین کی خدمت کرنے کو ترجیح دی!

ھ : تالیفات
شہید گلگت کے مختلف علاقوں میں لوگوں کو وعظ و نصیحت ،تبلیغ اور اسی طرح دینی مدارس میں تدریس میں مصروف رہا کرتے تھے ۔ ساتھ ہی حکومت اور وہابیوں کے ساتھ مختلف امور پر محاذ آرا تھے ۔ان سب مصروفیات کے باوجود علمی تحقیقات اور تالیفات کے میدان سے بھی غافل نہیں رہے ۔بڑی گرانقدر کتابیں لکھ کر ملت تشیع کے لئے ایک بہت بڑا علمی سرمایہ یادگار کے طور پر چھوڑا ہے۔ ان کی تالیفات میں درج ذیل کتابیں قابل ذکر ہیں :

۱۔ عبد اللہ ابن سبا ایک افسانوی کردار۔
۲۔ صحابہ در سایہ آیات و روایات۔
۳۔ آئینہ حقیقت۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here