بنیادی قانون کے مطابق شیعہ اور سنی دونوں پاکستان کے رسمی مذہب ہیں۔ پاکستان کو شیعہ اور سنی دونوں نے مل کربنایا ہے ۔ خصوصا شیعوں کی قربانیاں حصول پاکستان کے لئے کسی سے مخفی نہیں ہیں۔ بنیادی قانون کے مطابق نصابی کتابوں کے اندر ہر دو فرقوں کے عقائد مندرج ہونے چاہیے ۔ یہ بھی ذکر ہوا ہے کہ کتابوں کے اندر ایسا درسی مواد لانے سے پرہیز کیا جائے جو مسلمانوں کے درمیان تفرقہ پھیلائے۔ لیکن افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ ۱۹۹۷ کے بعد پہلی کلاس سے لیکر یونیورسٹی تک تمام کتابوں میں اس قانون کو بالائے طاق رکھتے ہوئے نصابی کتابوں میں ایسے زہریلے افکاردرج کئے گئے ہیں کہ جو شیعہ عقائد کے خلاف ہیں۔

لہذا شہید بزرگوار نے اس زہریلے درسی مواد کے خلاف زبردست تحریک اور مہم چلائی ۔حکومت سے مطالبہ کیا کہ نصاب تعلیم کے اندر ایسا درسی مواد کو رکھا جائے جو سب فرقوں کے لئے قابل قبول ہو۔ اس تحریک کی شیعوں کے علاوہ عام سنی برادران نے بھی بھرپور حمایت کا اعلان کیا۔