شہدائے گلگت بلتستان تمہاری عظمتوں کو سلام

تحریر : سید تصور مہدی کاظمی

حق اور باطل کے درمیان معرکہ صدیوں سے چلا آ رہا ہے مگر فتح ہمیشہ حق ہی کو نصیب ہوئی ہے اور باطل کو ہمیشہ ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ قیام پاکستان کا بنیادی مقصد ایک ایسے ملک کا قیام تھا جہاں پر تمام مسلمان بلا تفریق مذہب و مسلک اور رنگ ونسل اپنے اپنے مذہبی عقائد آزادی کے ساتھ سرانجام دے سکیں۔ مگر افسوس صد افسوس کہ قیام پاکستان سے آج تک اس ملک کے لئے بیش بہا قربانیاں دینے والی ملت تشیع کو ہمیشہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا جاتا رہا۔ اور اس ملک عزیز میں ملت تشیع سے تعلق رکھنے والے ہزاروں افراد کا بیگناہ خون بہایا جاتا رہا اور اب تک ہزاروں کی تعداد میں شیعہ علماء، ڈاکٹرز، انجنیئرز، وکلاء، پروفیسرز اور دیگر اعلٰی عہدیداروں اور مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے بیگناہ مومنین کو اس لئے چن چن کر شہید کیا گیا ہے کیونکہ وہ ملت جعفریہ سے تعلق رکھتے تھے اور قیام پاکستان کے مخالفین نہیں چاہتے تھے کہ یہ ملک صحیح معنوں میں ایک اسلامی فلاحی مملکت کا روپ دھارے اور یہ ملک ترقی کی اعلٰی منازل کو طے کرتے ہوئے اقوام عالم کے سامنے ایک ترقی یافتہ ملک بن کر ابھرے۔

اسی مقصد کے لئے ان ملک دشمن اور مفاد پرست عناصر نے ملک عزیز میں فرقہ واریت کا زہریلا بیج بویا، جس کو بونے میں صہیونیوں اور انکے دیگر بیرونی آقاوں نے انکی بھرپور مدد کی۔ اور ساتھ ساتھ حکومتی سرپرستی بھی انہیں حاصل رہی، جس سے وہ اپنے ناپاک منصوبوں کو پھیلانے میں خوب کامیاب رہے، اور فرقہ واریت کا زہر تیزی کے ساتھ پورے ملک میں سرایت کرنے لگا اور نتیجتاً ملکی حالات روز بہ روز کشیدہ ہو گئے اور ملک میں افراتفری پھیل گئی اور فرقہ ورانہ دہشت گردی کے واقعات ملک بھر میں رونما ہوئے، جن میں بیش بہا قیمتی جانیں ضائع ہوئیں اور ملک عزیز کی سالمیت خطرے میں پڑ گئی۔ اور اقتصادی طور پر ملک کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور ملکی ترقی رک گئی۔

فرقہ واریت کے اس بیج کو مختلف مراحل سے گزرتے ہوئے سب سے بڑے ڈکٹیٹر اور ملک عزیز پر 12 سال تک زبردستی مسلط رہنے والے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ایک تناآور درخت بننے میں بڑی مدد ملی اور اس کے لئے یہ موسم بڑا سازگار ثابت ہوا۔ فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں ملک میں فرقہ واریت کا زہر جس تیزی اور منظم انداز میں پھیلا گیا اس سے ملکی سلامتی اور استحکام کو بہت بڑا دھچکا لگا۔ جنرل ضیا کے دور حکمرانی میں ملت تشیع کیخلاف حکومتی سرپرستی میں باقاعدہ منظم انداز میں مہم چلائی گئی اور زندگی کے ہر شعبے میں ملت جعفریہ کے افراد کے ساتھ زیادتیوں اور ناانصافیوں کا سلسلہ شروع کر دیا۔ ایک طرف ملت جعفریہ کیخلاف معاشی اور نظریاتی جنگ مسلط کی گئی اور دوسری طرف حکومتی سرپرستی میں شیعہ مخالف ایک منظم دہشتگرد گروہ تشکیل دیکر اس کے ذریعے سے چن چن کر شیعہ مسلمانوں کو شہید کرایا گیا۔

فوجی آمر جنرل ضیاء کے دور میں ملت جعفریہ کیخلاف سب سے بڑا منصوبہ "ملت جعفریہ گلگت بلتستان” کیخلاف شیطان بزرگ امریکہ کی سرپرستی میں تشکیل دیا گیا اور اسے یہ منصوبہ ہر صورت میں پایہ تکمیل تک پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔ کیونکہ جب امریکی سفیر نے 1988ء سے قبل گلگت بلتستان کا دورہ کیا تو اس کی جگہ جگہ "مردہ باد امریکہ” کے نعروں سے تواضع کی گئی۔ اور یوں اس میں غم و غصے کی ایک شدید لہر دوڑ گئی اور اس نے اسلام آباد پہنچتے ہی یہ رپورٹ واشنگٹن روانہ کر دی اور واشنگٹن نے اس کے جواب میں اپنے پٹھو جنرل ضیاء الحق کو خصوصی ٹاسک دیا کہ وہ جلد از جلد اس خطے میں امریکہ مخالف جذبات رکھنے والےغیور شیعہ مسلمانوں کیخلاف مسلح کاروائی کا آغاز کرائیں اور انہیں صفحہ ہستی سے مٹادیا جائے۔

چونکہ یہ خطہ جغرافیائی لحاظ سے نہایت اہمیت کا حامل ہے اور اس خطے پر امریکہ اپنا اثر و رسوخ قائم رکھنا چاہتا تھا مگر یہاں پر بسنے والی شیعہ اکثریت، جو شیطان بزرگ امریکہ کے لئے نہایت نفرت انگیز جذبات رکھتے تھے۔ اس راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھے۔ اسی لئے امریکہ نے جنرل ضیاء کو Crush this community کے الفاظ کے ساتھ خصوصی ٹاسک دیا، جس کو عملی جامہ پہنانے کے لئے جنرل ضیا نے صوبہ سرحد کے علاقے کوہستان اور شمالی علاقہ جات کے علاقے چلاس، داریل اور تانگیر سے تعلق رکھنے والے نام نہاد بکاری وہابی ملاوں کو اعتماد میں لیا اور انکو بیش بہا لوازمات سے نوازا گیا اور جس کے بدلے میں ان ملاوں نے اپنے اپنے علاقوں میں جا کر سادہ لوح سنی مسلمانوں کو شیعیان حیدر کرار کیخلاف گمراہ کیا اور خوب پروپیگنڈہ کیا گیا اور شیعیان حیدر کرار کیخلاف کفر کے فتوے بھی صادر کئے گئے۔

اور یوں ملت جعفریہ گلگت کیخلاف ہزاروں افراد پر مشتمل ایک منظم لشکر ترتیب دیا گیا، جس کو اس وقت کی حکومت کی طرف س باقاعدہ اسلحہ اور ٹریننگ دی گئی اور مئی 1988ء میں اس لشکر کے ذریعے گلگت پر چڑھائی کرائی گئی۔ منصوبہ اس قدر منظم انداز میں ترتیب دیا گیا تھا کہ گلگت کے اہلسنت عوام کو قبل ازیں آگاہ کر دیا گیا تھا کہ وہ اپنے گھروں کی چھتوں پر سیاہ جھنڈے لگا دیں تاکہ بلوائیوں کو شیعہ گھرانوں کو پہچاننے میں آسانی ہو اور کوئی سنی گھرانہ غلطی سے بھی متاثر نہ ہوسکے۔ مگر ہمارا سلام ہو شہدائے ملت جعفریہ سانحہ 88ء پر کہ جنہوں نے اپنا پاکیزہ لہو بہا کر دین حق کا دفاع کیا اور یزیدی لشکر کے ناپاک عزائم کو خاک میں ملا دیا۔ ہاں ایسا کیوں نہ ہوتا کیونکہ شہادت تو ہمارا ورثہ ہے جو ہماری ماوں نے ہمیں دودھ میں پلایا ہے اور ہم شیعیان حیدر کرار ع راہ حق پر ثابت قدمی سے چلتے ہوئے اور دشمنان اسلام کی ناپاک سازشوں کا ڈٹ کر مردانہ وار مقابلہ کرتے ہوئے شہادت کی موت پانا اپنے لئے شہد سے زیادہ شیریں اور ایک عظیم افتخار سمنجھتے ہیں۔ 21 مئی 1988ء کی صبح آئی تو بلوائیوں نے گلگت شہر سے تقریباً 10 کلومیٹر دور واقع سکوار گاوں میں گھس کر جلاو اور لوٹ مار کا بازار گرم کیا۔ حکومت اور شرپسندوں کے مابین در پردہ طے پانے والے منصوبے کے مطابق بلوائیوں نے سکوار سے آگے کینٹ ایریا میں داخل ہونے کی کوشش نہیں کی، بلکہ اس کا رخ جو پہلے گلگت شہر کی طرف تھا، بعد ازاں اسکا رخ جلال آباد اور بلتستان کی طرف پھیر دیا گیا کیونکہ انہیں مقامیوں کی طرف سے سخت مزامت کا سامنا کرنا پڑا۔ اور باقاعدہ مورچہ بندی کیساتھ گھمسان کا رن پڑا۔ عینی شاہدوں کے مطابق لشکریوں کے لڑنے کے انداز سے یوں لگ رہا تھا کہ ایک منظم فوج کسی کی کمانڈ میں دوسرے ملک پر قبضہ کرنے چلی ہے۔ کیل کانٹے سے لیس، بس وردی ڈالنے کی کمی تھی۔ سینکڑوں میل فاصلہ اور تین ضلعوں کے حدود پھلانگ کر آنے والے اب چوتھے ضلع کی طرف پیش قدمی کر رہے تھے۔

اسی دن ایک کالم بٹکور کو تاراج کر کے جلال آباد پر حملہ آور ہوا، جبکہ دوسرے کالم نے شت نالہ کی آبادی کو تہ تیغ کر کے موضع کھات کی طرف بڑھا۔ اب انکا سامنا علی شیر انچن کی قوم سے ہوا جنہوں نے ڈروٹ اور حراموش کے مومنین کے ساتھ ملکر اس جگہ کو لشکریوں کا مرگھٹ بنا دیا۔ لہذا مزید آگے بڑھنے کی بجائے مال غنیمت کے ان بیچاروں نے دم دبا کر بھاگنے میں ہی عافیت جانی اور یوں بلتستان کا علاقہ مکمل طور پر انکے شر سے محفوظ رہا۔ 17 سے 26 مئی 1988ء تک کے خون آشام واقعات میں شت نالہ، بٹکور، جلال آباد، بونجی، سئی جگلوٹ، شیر قلعہ، ھوپر شکیوٹ، سکوار اور مناور کے شیعہ اکثریتی علاقے مکمل تاراج ہوئے۔ اس دوران سب سے زیادہ تباہی اور ظلم و ستم جلال آباد میں ہوا۔ شہیدوں کی اس سرزمین میں 50 سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 1230 گھرانے جلائے گئے۔ 24 مساجد اور 4 امام بارگاہ جلائے گئے اور 2000 سے زائد قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کئے گئے۔

آنسو ٹپک پڑے در و دیوار دیکھ کر۔۔۔۔

ان لشکریوں نے اسلام کیخلاف ایسا جہاد کیا کہ کربلا کا منظر بنا دیا۔ لاشیں بے گور و کفن پڑی رہیں، لاشوں پر گھوڑے تو نہیں دوڑائے گئے مگر شناخت کے قابل بھی تو نہ تھیں۔ لاشوں پر لکڑیاں ڈال کرجلا دیا گیا یا تیزاب اور بھاری پتھروں سے مسخ کیا گیا۔ جو حملہ آوروں کے ہتھے چڑھ گئے انہیں پہلے نہایت سفاکی سے شہید کیا گیا، پھر چھریوں سے انکے بدن کا گوشت کاٹ کاٹ کر صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ تحقہ کے طور پر چھوڑ دیا گیا۔

آہ! یہ قیامت خیز مناظر، اے آسماں! تو ان پر پھٹ کیوں نہ پڑا؟ اے مادر گیتی! تو نے ان شقی انسانوں کا وزن اپنے اوپر کیسے برداشت کیا؟ بچوں کی خوف کے مارے نیم دیوانگی اور سراسیمگی کی حالت، مجبور بے بس مستورات کی آہ و زاری، بیماروں، معذوروں اور اپاہجوں کے دلوں سے نکلنے والی آہیں، بوڑھوں کی حسرت بھری نگاہیں، سہاگ لٹے، بچے یتیم ہوئے۔ ماوں کے لخت جگر داغ مفارقت دے گئے، ہنستے بستے کنبے غم کی وادی میں جابسے۔ ہزاروں مرد و زن بے سرو سامانی کے عالم میں شاہراہ ریشم پر تسبیح کے دانوں کی مانند بکھر گئے۔ جلال آباد اور بٹکور کے شعلے گلگت شہر سے نظر آنے لگے۔ بلوائیوں کے دل کی غلاظت یوں بھی عیاں ہوئی کہ بے زبان حیوانوں پر بھی گولیاں برسائی گئیں۔ کھڑی فصل جلائی گئی۔ پھلدار درختوں کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر کلہاڑیوں سے سجدہ ریز کرایا گیا۔ جو بھی قابل استعمال سامان اٹھا کر یا لاد کر لے جانے کے قابل نظر آیا۔ چھوڑ کے جانا ان بے غیرتوں کی غیرت نے گوارا نہیں کیا۔ ہر وہ تدبیر اختیار کی گئی کہ کوئی بھی شے استعمال کے لائق نہ رہے۔ لہذا جلا کر راکھ کر دو، ناکارہ بنا دو، یا ڈھا دو کا فارمولا سب مفتوحہ علاقوں پر لاگو تھا۔

اک قیامت کی گھڑی تھی آل احمد ص کے مدح خوانوں پر
یا خدا! قہر کی بجلی گرا دو ان ظلم کے ایوانوں پر

یہی وہ ایام تھے جب حکمران عوام دشمنی پر اتر آئے تھے۔ وردی والے محافظوں نے تماشائیوں کا روپ دھارا تھا۔ جہاں سینکڑوں شہری شہید و زخمی ہوئے، وہاں ہمارے ان پاسبانوں نے اپنی انگلی تک نہ کٹوائی۔ ان لشکریوں نے جگہ جگہ قانون کی ایسی دھجیاں بکھیر دیں تھی کہ اس کیلئے جنگل کا قانون کہنا بھی بہت جھوٹا لفظ ہو گا۔ اب کی دفعہ 1947ء، 1965ء، 1971ء اور سیاچن کے محاذ پر دشمنوں کے چھکے چھڑانے والوں کی بہادر اولاد ملک کے اندرونی دشمنوں سے نبرد آزما تھے۔ فورس کمانڈر ناردرن ایریاز میجر جنرل ایاز یہ کہہ کر گلو خلاصی کر رہے تھے کہ "مجھے جہاں انہیں روکنے کا حکم ملا تھا، وہاں میں نے لشکریوں کو روکا۔”

جوانمردوں کو عزت و ناموس کے غم نے جان و مال کی فکر کو ثانوی حیثیت دی تھی۔ بوڑھے اپنی پیرانہ سالی کے باوجود میدان جنگ میں ایسے خم ٹھونک کر داد شجاعت دے رہے تھے کہ جوان اور بوڑھے میں فرق روا رکھنا محال تھا۔ جس کو جہاں کھڑا کیا گیا وہ تادم آخر چٹان کی طرح وہیں نصب ہو گیا۔ صد آفریں! ان پر جو اپنے اسلحے کے اوپر لیٹ کر خالق حقیقی سے جاملے، مبادا کہیں یہ اسلحہ دشمن کے ہاتھ نہ لگے۔ سلام ان پر جنہوں نے وقت کے فرعونوں کو اپنے خون کے دریا میں ڈبو دیا۔

موسٰی کی پیروی میں گزاری ہے زندگی
فرعونیت کے سامنے سر خم نہیں ہوا

اس قومی المیے کا گھاو تاحال مندمل ہوتا نظر نہیں آتا۔ سئی جگلوٹ، بونجی، پڑی، بنگلہ اور سکیوٹ کے متاثرین تاحال کسی مسیحا کے منتظر ہیں۔ تخریب کاروں کے سرخیل چاروں مفسد ملا شہزادہ خان، مہتر خان، عبدالشکور اور عبد الحنان عرف ملنگ حکومت کی گرفت سے بچے رہے۔ اس سانحے کے بڑے کردار وفاقی وزیر قاسم شاہ، ایڈمنسٹریٹر قیوم خان، کرنل عزیز اور میجر الیاس سے باز پرس کرنے کی زحمت گوارا نہ کی گئی۔ مگر عوام کی عدالت نے مجرموں کو تاحیات اور بعد از موت رسوائی لکھ دی۔ مجرم قانون کے عتاب سے بچے رہے مگر قدرت کے انتقام سے ہرگز نہیں بچ سکیں گے۔ یزیدی زندہ بچ کر تاریخ کے صفحات پر محو ہو گئے۔ حسینی مقتل کو سرخرو کر کے تاریخ کے صفحات پر ہمیشہ کے لئے اپنا نام ثبت کر گئے۔ یزیدی کردار انسانیت کے علمبرداروں سے عبرتناک شکست کھا گیا۔ یزیدیوں کا نام حرف غلط کی طرح مٹ گیا۔ مگر حسینیوں کا نام آج بھی پہاڑوں کے بیچ میں گونج رہا ہے۔

شہداء راہ حق کے اسی مشن کو آگے بڑھاتے ہوئے اور مذھب حق کا ڈٹ کر دفاع کرتے ہوئے مجاہد ملت، شہید اسلام و قرآن حجۃ الاسلام علامہ سید ضیاء الدین رضوی نے بھی اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ اور اپنے پاک و پاکیزہ خون کو بہا کر دین کی کھیتی کی آبیاری کی۔

اے راہ حق کے شہیدو! عزت و ناموس کی خاطر قربانی دیکر جو تاریخ آپ نے اپنے خون سے رقم کی ہے وہ ہمارے دلوں کو گرماتی ہے۔ آپ کے مزار کلیوں اور پھولوں سے معمور ہیں۔ آپ ہی کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ہمیں یہ دنیا دو گروہوں میں بٹی نظر آتی ہے۔ اس لئے حق پرست کل بھی کہتے تھے۔ اور آج بھی کہتے ہیں۔ اور قیامت تک کہتے رہیں گے۔

حسینیت زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یزیدیت مردہ باد

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here