شہید کا علمی مقام

شہید ضیاءالدین رضوی

دانشمندوں اور مفکرین کے لئے مختلف اصطلات سے آگاہی اور کچھ الفاظ اور لغات کے بارے میں معلومات باعث افتخار نہیں رہا ہے، ایسے افراد جنہوں نے علم کو اپنے پروردگار سے قریب ہونے کے لئے کسب کیا حقیقت میں وہی فائدے میں رہے اور تاریخ میں جاودانگی کو اپنے سر کرلیا اور ابدیت کے بلندی پر فائز ہو گئے۔ شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی بھی ایسے مخصوص افرد میں سے تھے کہ جنھوں نے اپنے علمی پہلو کے اندر بلند نظری، معرفت، تلاش و کوشش اور اخلاص کو ملا کر ایک ایسا معطر کردار اپنا لیا جو تعلیم و تہذیب کے متلاشیوں کے لئے بہتریں نمونہ عمل ہو سکتا ہے۔

شہید سید ضیاءالدین رضوی نے اپنے ایام تحصیل کے مقدماتی مراحل کو انتہائی محنت و لگن اور جدّیت کے ساتھ اختتام تک پہنچا دیا اور پھر اعلی تعلیم کے حصول کے لئے حوزہ علمیہ قم تشریف لے گئے، جہاں آپ نے بزرگ اساتذہ سے کسب فیض کیا۔ دروس خارج کو آپ نے مرحوم آیت اللہ العظمیٰ فاضل لنکرانی، آیت اللہ میرزا جواد تبریزی، آیت اللہ راستی کاشانی کے پاس پڑھا۔ بظاہر شہید کی مدت تحصیل مختصر ہے مگر اس مختصر مدت میں آپ نے انتہائی جدیت اور محنت سے اور خداوند تعالی کی عطا کردہ صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے پڑھنے کا حق ادا کیا، جس کے نتیجے میں ایک اچھے استاد، اچھے خطیب اور ایک قدرتمند مناظر کی شکل میں سامنے آگئے اور کوئی آپ سے مناظرہ کرنے کی جرات نہ کر سکا۔

شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی اپنی زندگی میں مختلف اجتماعات میں بارہا یہ کہہ چکے ہیں کہ :

"میں نے بار ہا کہا ہے اور ابھی بھی کہ رہا ہوں کہ اگر کوئی چاہتا ہے تو مجھ سے شیعہ مذہب کے بارے میں وضاحت طلب کرے۔ یا ثابت کرے کہ سنی مذہب حق ہے یا مجھے اجازت دے تا کہ میں ثابت کروں گا کہ شیعہ مذہب حق ہے۔ اگر میں مناظرے میں ہار گیا تو میں اپنے علاقے کی پوری ملت تشیع کے ساتھ مذہب اہلسنت کو قبول کر لوں گا "

اس قسم کا دعویٰ واقعاً بہت عجیب ہے اس لئے کہ انسان اپنے بارے میں کہہ سکتا ہے کہ مثلا میں سنی ہو جاوں گا لیکن یہ کہنا کہ تمام ملت کے ساتھ سنی ہو جاوں گا بہت مشکل اور سخت ہے۔ لیکن شہید کے اس جملے سے پتا چلتا ہے کہ شہید رضوی یقین کے کس منزل پر فائز تھے۔

آپ کو تحصیل علم کے لئے پاکستان میں صرف ۶ سال پڑھنے کا موقع فراہم ہوا اور قم المقدس میں صرف ۱۰ سال علوم آل محمد( ص) کو کسب کرنے کی توفیق حاصل ہوئی اس ۱۶ سال کی مختصر مدت میں واقعا ایک علم کے سمندر تھے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here