شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی نے ایک ایسے گھرانے میں تربیت پائی جو ناشر فرہنگ اہل بیت علیہم السلام تھا اور ان کے والد بزرگوار ہمیشہ مجالس و محافل اور فضائل و مصائب اہلبیت میں مصروف رہتے تھے اور یہ فرزند پاک طینت اپنی بچپن ہی سے اس خاندان عصمت و طہارت سے آشنا ہو چکے تھے اور ظاہر ہے ایسی تربیت اور ایسا انداز اپنے ساتھ اہلبیت اطہار کی محبت کو بطور تحفہ ساتھ لے کر آتا ہے اور شہید سید ضیاءالدین رضوی ایک اور راستے سے اس رابطے کو مستحکم کرتے رہے اور وہ اس خاندان عصمت و طہارت کی معرفت میں اضافہ کرنا تھا۔ آپ اس قدر اپنے ایمان، معرفت اور خداوند تعالیٰ کے اوامر اور نواہی میں اطاعت کے سلسلے میں کوشش اور مجاہدت کرتے تھے اورحبّ فطری اور ملکوتی کو اپنے وجود کے اندر روز بروز اس انداز سے اضافہ کرتے جاتے تھے کہ ہر وہ چیز جو خدا سے منسوب ہوتی تھی اس سے بھی محبت کرتے تھے۔

اگر عرفان کا مطلب اور مراد خدا کی صحیح شناخت اور درک حقایق تعالیم الٰہی اور بندگی کے بلند ترین مقام تک پہنچنا ہے تو شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی عرفان کے بلند ترین چوٹی پر فائز تھے ان کا گفتار، کردار، اٹھنا بیٹھنا الغرض ان کی زندگی خدا کے ساتھ مخلوط تھی۔ وہ اگرچہ لوگوں میں اور لوگوں کی طرح زندگی گزارتے تھے مگر ان کا ذہن اور ان کا زبان ہر گز ذکر خدا سے غافل نہ تھا بلکہ سیر و سلوک کا عملی نمونہ تھے۔ کتاب "شہداء گلگت بلتستان ” کے مصنف ایک عجیب واقعے کو اپنے کتاب میں نقل کرتے ہیں :

میں نے اپنی کتاب کو جب شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی کے سامنے پیش کیا تو آغا نے فرمایا کہ کتاب ھٰذا میں کچھ غلطیاں ہیں درست کی جائے اور شائع کرنے کی کوشش کریں۔ جب میں نے تصحیح کی اور دوبارہ آغا کی خدمت میں پیش کیا تو شہید آغا ضیاءالدین نے کہا کہ فی الحال اسے شائع نہ کرنا کیونکہ اس کتاب میں مزید شہداء کی تفصیل شامل کرنا پڑے معلوم نہیں آغا نے کس راز کے تحت یہ بات کہہ دیا کہ نا چیز یہ سوچ کر حیران ہے۔ حالانکہ آغا شہید نے کہا تھا کہ سنہ ۱۹۹۹ء تک کے شہداء کی تفصیل لکھنا ہے نا چیز نے یہ سوال کیا کہ آغا صاحب آپ نے تو کہا تھا کہ صرف ۱۹۹۹ء تک کے شہداء کا قصہ لکھنا ہے تو مزید شہداء کی تفصیل کیسے لکھوں، آغا نے کہا : کہ ہو سکتا ہے ان شہداء کی تفصیل لکھنا ضروری ہو اور ان کے بغیر تمھاری کتاب ہی مکمل نہ ہو [1] ۔ اس واقعہ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ شہید عرفان کے کس منزل پر فائز تھے۔ اور کہا جاتا ہے کہ آپ کے پاس ایک چابی تھی جو کسی کو بھی نہیں دیتے تھے، شہادت کے دن آپ نے وہ چابی اپنی زوجہ محترمہ کے حوالے کیا۔ گویا شہید اپنی شہادت سے آگاہ تھے۔

[1] ۔ شہداء گلگت بلتستان ، محبت علی قیصر ص ۲۸۶