بحر بیکراں سے نکلے دو موتی

تحریر: تصدق حسین ہاشمی

فَلَوْلَا نَفَرَ مِن كُلِّ فرقۃ منھم طائفۃ لِّيَتَفَقَّہوا فِي الدِّينِ وَلِيُنذِرُوا قَوْمَہمْ إِذَا رَجَعُوا إِلَيْہمْ لَعَلَّہمْ يَحْذَرُونَ۔ ۱

مقدمہ
کسی بھی معاشرے میں دو مختلف افکار اور نظریات کے حامل افراد یا گروہ پائےجاتے ہیں جن میں سے ایک گروہ اپنے ذاتی مفادات کو معاشرے کی فلاح اور ترقی کے لئے قربان کردیتا ہے اور دن رات کی کوششوں سے معاشرے کی اصلاح کرتا ہے، دشمن کی سازشوں اور ناپاک عزائم کو ناکام بناتے ہوئے معاشرہ کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ جبکہ دوسرا گروہ اپنے ذاتی مفادات کے حصول کے لئے معاشرہ اور اجتماعی مفادات کو قربان کر دیتا ہے۔ جس سے افراد تو ترقی کر جاتے ہیں لیکن اجتماعی طور پر معاشرہ تنزلی کا شکار ہو جاتا ہے۔ گلگت بلتستان کے معاشرے میں بھی ایسے ہی دو گروہ پائے جاتے ہیں۔ معاشرہ کی ترقی کے لئے جہاں دوسرے طبقات کے دلسوز افراد کوشاں ہیں وہاں علماء کا کردار سب سے نمایاں اور واضح ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مفاد پرست شخص علماء سے کبھی بھی خوش نظر نہیں آتا لیکن اس کے باوجود علماء اپنے فرائض کی انجام دہی میں نہ کسی سے مرعوب ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی سے ان کو خوف ہے۔ بلکہ اگر ان کو کسی سے خوف ہے تو وہ صرف خداوند عالم کی ذات ہے۔ قرآن کی صریح آیت ہے۔ إِنَّمَا یخشی اللہ مِنْ عِبَادِهِ الْعُلَمَاءُ ۗ.۲

یعنی اگر بندگان خدا میں سے کسی کو خدا کا خوف ہے تو وہ صرف علماء ہیں۔ یعنی علما صرف اور صرف خدا سے ہی ڈرتے ہیں یہاں مفسرین اس کلام الہی کی تفسیر یوں بیان فرماتے ہیں! جب کوئی عالم معرفت کے اس درجہ پر پہنچ جاتا ہے کہ جہاں سے سارے پردے ہٹ جاتے ہیں اور حقایق کے چہرے نمایاں ہو جاتے ہیں۔۳ جب کسی کے لیے حقیقت واضح ہو جائے تو اس کو عقلی طور پر خدا سے ہی ڈرنا چاہیے نہ کسی اور سے. امام صادق علیہ السلام عالم کا معنی بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں که : يعني بالعلماء من صدّق قولہ فعلہ، و من لم يصدق قولہ فعلہ فليس بعالم ۴۔ عالم وہ ہوتا ہے کہ جس کا قول اس کے فعل کی تصدیق کرے۔ اگر اس کا قول اس کے فعل کی تصدیق نہ کرے تو عالم نہیں ہے۔

اس مختصر تحریر میں دو ایسے ہی شخصیات کے کچھ مشترکہ اوصاف کا ذکر کیا جائے گا جنہوں نے اپنی زندگی تبلیغ اور معاشرے کی اصلاح کے لئے وقف کر رکھی تھیں۔

گلگت بلتستان میں علماء کا کردار
گلگت بلتستان کی ترقی اور معاشرہ کی اصلاح میں علماء کے کردار کی سنت قدیم علماء سے چلی آرہی ہے کہ جب کشمیر کے راستہ سے ایران کےعلماء تبلیغ کے سلسلہ میں تشریف لائے اور اس علاقہ کو محبین اہل بیت علیہم السلام کا قلعہ بنا دیا۔ یہاں سے علماء کے کردار کا آغاز ہوتا ہے اور مقامی افراد بھی اپنے بچوں کو علمی مراکز کے حوالے کرکے معاشرہ کی خدمت اور اسلام کی تبلیغ کے لئے وقف کرنا شروع کردیتے ہیں۔۵ کچھ عرصے میں شمالی علاقہ کے علماء کا پورے پاکستان میں چرچا ہوتا ہے کیونکہ یہاں کے علماء صرف اسی علاقہ کی حد تک محدود نہیں رہتے بلکہ پاکستان کے مختلف اور دور دراز علاقوں میں اپنی خدمات انجام دینا شروع کرتے ہیں اور ان کی بے لوث خدمات، صداقت اور دیانتداری کے باعث پورے پاکستان میں شمالی علاقہ جات کا نام روشن ہو جاتا ہے۔ انہی بےلوث خدمات انجام دینے والے علماء میں سے دو چمکتے ستارے علامہ شیخ غلام محمد الغروی اور شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی ہیں جنہوں نےگلگت بلتستان میں نہ فقط تبلیغ کے فرائض انجام دیئے بلکہ وہاں کی عوام کے حقوق کے حصول سمیت دیگر مسائل کے حل میں اپنی جان کی بازی لگائی۔

گلگت بلتستان آمد
گیارہ سال باب مدینۃ العلم کے در پر علم و حکمت سے مزین ہو کرجب شیخ غلام محمد الغروی بلتستان پہنچے تو ان کی خدا داد صلاحیتوں کا چرچا ہوا اور اپنے آبائی گاؤں سے ان کو سکردو شہر لایا گیا جہاں سے انہوں نے تبلیغ کے فرائض کی انجام دہی کے ساتھ ساتھ مختلف جہات سے خدمات انجام دیتے رہے ۶۔ اور مفتی جعفر حسین اعلی اللہ مقامہ کی قیادت کے دوران پورے شمالی علاقه جات کی قیادت ان کے سپرد کیا۔ شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی بھی مرکز علم و فقاہت قم المقدس میں علم کی تشنگی بجھا کر تبلیغ کے سلسلہ میں گلگت تشریف لائے۔ جب دوبارہ قم المقدس کا ارادہ کیا تو مؤمنین نے ان سے التماس کرتے ہوئے جانے سے روکا اور ان کے معنویت سے بھری تقاریر اور دعاؤں سے معنوی کیف حاصل کرتے رہے۔۷

دشمن عناصر کا عذاب
تقریبا نصف صدی تک علامہ شیخ غلام محمد سماج دشمن عناصر کے آنکھوں میں کانٹا بن کر چبھتے رہے اور آخرکار ملت کو انہی دشمن عناصر سے درپیش مسائل کو حل کرنے میں دن رات کوششوں کے باعث ذیادہ ذہنی فشار کے باعث بستر بیمار پر پڑ جاتے ہیں اور کافی علاج و معالجہ کے باوجود داغ فراغت چھوڑ جاتے ہیں۔ ان کے بعد شہید سید ضیاءالدین رضوی دشمن عناصر کے لئے عذاب اور ملت تشیع سمیت تمام امن پسند افراد کے لئے رحمت کے طور پر میدان عمل میں اترتے ہیں۔ لیکن دشمنوں نے ان کے مشن کو روکنے اور اپنے مفادات کے حصول کے لئے ان کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کر ڈالا۔

شجاعت و بہادری اورحکمرانوں سے ٹکر
علامہ الغروی اور شہید رضوی دونوں اگرچہ جسمانی لحاظ سے کمزور اور قد میں چھوٹے تھے لیکن ان کی جرات اور شجاعت کوہ ہمالیہ و قراقرم سے بھی بلند اور مضبوط تھی۔ دونوں ہستیاں کبھی بھی کسی ظالم حکمرانوں کے دھوکہ میں نہیں آئے۔ بیوروکریسی کے سامنے کبھی نہیں جھکے بلکہ ان کے سامنے جرات کے ساتھ کھڑے ہوتے اور ان کو اپنی بات ماننے پر مجبور کرتے تھے۔ علامہ الغروی نے ضیاءالحق جیسے فسادی، متعصب اور ظالم جنرل کے دور میں قوم و ملت کی قیادت کی اور ان کے سامنے بھی حق کی بات کرنے سے نہیں کتراتے تھے۔ ان کے مظالم کے خلاف ان کے سامنے احتجاج کرتے۔ ان کے فسادی سازشوں کو ان کے سامنے تنقید کا نشانہ بناتے تھے۔ بڑے بڑے افسران اور شخصیات ان کی جرات و بہادری پر حیران رہ جاتیں تھیں کہ جسمانی لحاظ سے اتنے نحیف اور کمزور لیکن ضیاءالحق جیسے ظالم ڈکٹیٹر کے سامنے ڈٹ جاتے ہیں۔ جبکہ اس کے برعکس بڑی بڑی شخصیات ضیاءالحق کے سامنے جھک جاتے اور ان کے سامنے بولنے کی ہمت نہ کرتی تھیں۔ شہید رضوی نے بھی ایک ڈکٹیٹر مشرف کی حکومت کا مقابلہ کیا جہاں بعض افراد ان کی جماعت اور حکومت میں شامل ہونے کی کوششیں کررہے تھے وہاں آپ ان کی سازشوں کو بے نقاب کرنے اور نصاب میں تبدیلی کے ذریعہ نئی نسل کو اپنے عقائد سے بے بہرہ کرنے کی کوشش کو پورے پاکستان میں تنقید کا نشانہ بنایا۔

لیکن پاکستان کے دوسرے علاقوں کے علماء اور شخصیات کی خاطرخواہ حمایت حاصل نہ ہونے کے سبب دشمن کو یہ موقع ملا اور وہ یہ جانتا تھا کہ شہید نہ بکنے والے ہیں نہ ڈرنے والے، ان کا عزم و حوصلہ بہت بلند و قوی ہے۔ دشمن نے یہ سوچا کہ ان کو شہید کرکے ہی اس مشن کو ناکام بنایا جاسکتا ہے۔ لہذا ان کو ان کے ساتھیوں سمیت شہید کرڈالا۔ لیکن ان کا مشن جاری ہے شہید کےخون نے ملت کو نئی جان عطا کی ہے اور دشمن کے کسی بھی سازش کا مقابلہ کرنے کے لئے آج ہر طبقہ فکر کے افراد تیار ہیں۔

اتحاد بین المسلمین
علامہ الغروی اور شہید رضوی دونوں درویش صفت رہنما تھے۔ زہد و تقوی، خلوص، خدمت خلق کا جذبہ اور بلند حوصلہ کے مالک تھے۔ اتحاد بین المسلمین کے لئے دونوں کے کردار مثالی ہیں۔ گلگت جیسے حساس علاقہ میں شہید رضوی کی مدبرانہ قیادت نے شیعہ سنی بھائی بھائی کے نعرے کو بلند ہونے پر مجبور کیا ۹۔ ضیاءالحق کے دور میں جب انہوں نے گلگت بلتستان کا دورہ کیا تو علامہ الغروی کے پاس افراد بھیجے اور مطالبات پیش کرنے کا کہا گیا تو کسی چیز کا مطالبہ نہیں کیا صرف ایک مطالبہ کیا کہ اہل سنت برادران کے لئے مسجد کی جگہ نہیں ہے لہذا سرکاری خرچہ پر چلنے والے سینما حال کو ختم کرکے وہ جگہ اہل سنت کو دی جائے اور اطراف میں دکانیں بنانے کے اخراجات بھی دئیے جائیں تاکہ انہی دکانوں کی آمدنی سے مسجد کے اخراجات پورے کیے جاسکیں۔ اس مطالبہ کو قبول کیا گیا۱۰ اور آج بھی اہل سنت اس مسجد میں عبادت کرتے ہیں۔ تمام مکاتب فکر کے علماء و عوام انکی قیادت اور قائدانہ صلاحیت کے معتقد و معترف تھے اور آج بھی ان کا تذکرہ کرتے ہیں۔

تحریک جعفریہ پاکستان میں کردار
علامہ شیخ غلام محمد ؛ سید محمد دہلوی کی قیادت میں‌ بننے والی تحریک کے‌حامی اور اس تحریک کے ذریعہ کئے گئے‌ اصلاحات پر بھی اعتقاد رکھتے‌تھے۔ جب پہلی بار قائد محبوب مفتی جعفر حسین نے شمالی علاقہ جات کا دورہ کیا تو وہاں‌ تنظیم سازی عمل میں‌ آئی اور شمالی علاقہ جات کی قیادت کی ذمہ داری علامہ شیخ غلام محمد کے‌ کاندھے‌ پر ڈال دی جسے‌ آپ نے‌ ملت کی خدمت کے‌ جذبہ سے‌ سرشار ہو کر قبول کیا آخر دم تک مرکزی قیادت سے‌ منسلک رہے۔ اور کوئی بھی قدم علاقہ کے‌ زمینی حقائق کو مدنظر رکھ کر اٹھاتے‌ رہے۔ شہید قائد علامہ عارف حسین الحسینی کی قیادت میں‌ بھی آپ ان کے‌ لئے‌ ایک انتہائی مخلص مددگار ثابت ہوئے۔ شہید قائد کی شہادت کے‌ بعد جب ملت تشیع پاکستان کا یہ کاروان موجودہ قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کی قیادت میں‌ رواں‌ دواں تھا اسی دوران جب شمالی علاقہ جات میں‌ الیکشن کے‌ ایام میں‌ اس دور کے‌ وزیر امور کشمیر و شمالی علاقہ جات نے‌ ایک حلقہ کو تبدیل کر کے‌ مذہبی منافرت پھیلانے کی ناپاک کوشش کی تو علامہ شیخ غلام محمد نے الیکشن کا بائیکاٹ کرنے‌ کا اعلان کیا جس کا عوام کی طرف سے انتہائی مثبت انداز میں‌ جواب آیا اور کل چھ سو سیٹوں‌ میں‌ سے چار سو سیٹوں‌ پر الیکشن نہیں‌ ہوئے جو علامہ شیخ غلام محمد کی عوام میں‌ محبوبیت اور ان کی قیادت پر اعتماد کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ اسی بائیکاٹ کا نتیجہ تحریک جعفریہ نے اگلے‌ الیکشن میں‌ واضح اکثریت میں‌ جیت کر حاصل کیا لیکن جس کی بصیرت اور خلوص کی وجہ سے‌ یہ کامیابی حاصل ہوئي تھی وہ اس کامیابی کو نہ دیکھ‌ پائے کیونکہ اس وقت شمالی علاقہ کی عوام اپنے‌محبوب اور مخلص قائد سے‌ محروم ہو چکی تھی۱۱.

شہید سید ضیاءالدین رضوی بھی مرکزی قیادت سے انتہائی مخلص تھے۔ شہید قائد کو اپنے لئے‌ الگو قرار دے رکھا تھا۔ ان کی شہادت ملت تشیع کے لئے‌ بہت بڑا نقصان تصور کرتے‌ تھے۔ شہید عارف حسین الحسینی کی المناک شہادت کے‌ بعد شہید ضیاءالدین؛ موجودہ قائد علامہ سید ساجد علی نقوی کے خط کو اپناتے ہوئے ہمیشہ ان کی قیادت سے مخلص رہے۔ قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی پر لگائے گئے الزامات کی بھرپور انداز میں مخالفت کرتے‌ ہوئے ان کی حمایت جاری رکھی اور ان کی حمایت کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے‌جانے‌ نہیں‌ دیا۔ جب علامہ سید ساجد نقوی مدظلہ العالی کو پابند سلاسل کیا گیا تو اس واقعہ کے‌ خلاف احتجاج کرتے ہوئے‌ آپ نے‌ فرمایا : قائد محترم کو ہر طریقہ سے‌ مرعوب اور دبانے‌کی کوشش کی جارہی ہے۔ شہید کی نظر میں‌ قائد محترم پر لگائے‌ گئے قتل کا الزام صرف ایک ڈرامہ تھا اصل مقصد یہ تھا کہ حکومت دشمن کے ہمنوا بن کر دشمن کے جو مطالبات تھے‌ وہ ان سے‌منوالیا جائے۱۲.

علامہ شیخ غلام محمد اور شہید سید ضیاءالدین دونوں‌ کا مرکزیت کے حوالے سے ایک ہی نظریہ تھا۔ علامه شیخ غلام محمد کا تاریخی فرمان ہے کہ : مرکزیت قوم کی اہم ضرورت ہے۔ اسی طرح شہید سید ضیاءالدین فرماتے‌ ہیں : مرکز سے‌ جدا ہو کر کوئی بھی کامیابی حاصل نہیں‌ کر سکتا۱۳.

ہماری ذمہ داری
آج ان دو عظیم شخصیات کی خدمات کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان کے خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے۔ کیونکہ ملت تشیع سے تعلق رکھنے کی حیثیت سے اپنے محسنین کو یاد رکھنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔ ان دو شخصیات کے علاوہ بھی ایسے علماء تاریخ میں ملتے ہیں جنہوں نے قوم و ملت کے لئے اپنی عمریں وقف کردی ہیں ان سب کو یاد رکھنا اور ان کی خدمات کا تذکرہ ہونا چاہیئے۔ جہاں ان گزشتہ قائدین و محسنین کو یاد رکھنا ضروری ہے وہاں آج ان علماء کی قدر کرنا بہت ضروری ہے جو مختلف پلیٹ فارم پر تشیع کا دفاع کر رہے ہیں۔ آپس کے تمام نظریاتی اختلافات سمیت علاقائی و لسانی اختلافات کو کچل کر ایک قوم بن کر ملت کا دفاع کرنے والے افراد کے لئے قوت و طاقت کا باعث بننا ہوگا۔۔

حوالہ جات
.۱سورہ توبہ آیۃ۱۲۲
.۲سورہ فاطرآیۃ۲۸
.۳بلاغ القرآن؛شیخ محسن علی نجفی
.۴اصول کافی
26 .k2. جون 1999تحریر حسن حسرت
.۶علامہ شیخ غلام محمد ایک بے داغ قیادت
.۷مقالہ؛تحریر عین الحیات؛المصباح ہوم نیٹ
.۸ایضا
.۹ایضا
.۱۰علامہ شیخ غلام محمد ایک بے داغ قیادت
۱۱. http://www.jrbpk.comعلماء ومراجع (قائد شمالی علاقہ جات علامہ شیخ غلام محمد غروی.تحریر محمد حسین حیدری)
http://www.balti.blogfa.com/postعلامہ شیخ غلام محمد الغروی نجفی مرحوم.تحریر محمد نزیر عرفانی
۱۲.۱۳. http://www.almisbah14.com/2013-10-15-15-38-22/23-2013-11-30-18-07-33.html

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here