فرعونیت کے سامنے سر خم نہیں ہوا
حسینیت زندہ باد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ یزیدیت مردہ باد!

(گلگت) 1988 میں ملعون ضیاء الحق کی سرپرستی میں گلگت کے مومنین پر ہزاروں طالبان دہشت گردوں نے لشکر کشی کر کے متعدد مساجد و امام بارگاہوں کو شہید اور قرآن پاک کو جلایا گیا۔ اس معرکہ میں 100 سے زائد مومنین شہید اور متعدد زخمی ہوئے۔ اور اس معرکے میں امام زماں عج کی مدد سے مومنین نے ثابت قدمی سے مقابلہ کرتے ہوئے سپاہ یذید کے حملوں کو پسپا کر کے واصلِ جہنم کر دیا۔

17 سے 26 مئی 1988ء تک کے خون آشام واقعات میں شت نالہ، بٹکور، جلال آباد، بونجی، سئی جگلوٹ، شیر قلعہ، ھوپر شکیوٹ، سکوار اور مناور کے شیعہ اکثریتی علاقے مکمل تاراج ہوئے۔ اس دوران سب سے زیادہ تباہی اور ظلم و ستم جلال آباد میں ہوا۔ شہیدوں کی اس سرزمین میں 50 سے زائد افراد نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا۔ 1230 گھرانے جلائے گئے۔ 24 مساجد اور 4 امام بارگاہ جلائے گئے اور 2000 سے زائد قرآن مجید کے نسخے نذر آتش کئے گئے۔ آنسو ٹپک پڑے در و دیوار دیکھ کر۔۔۔۔

ان لشکریوں نے اسلام کے خلاف ایسا جہاد کیا کہ کربلا کا منظر بنا دیا۔ لاشیں بے گور و کفن پڑی رہیں، لاشوں پر گھوڑے تو نہیں دوڑائے گئے مگر شناخت کے قابل بھی تو نہ تھیں۔ لاشوں پر لکڑیاں ڈال کرجلا دیا گیا یا تیزاب اور بھاری پتھروں سے مسخ کیا گیا۔ جو حملہ آوروں کے ہتھے چڑھ گئے انہیں پہلے نہایت سفاکی سے شہید کیا گیا، پھر چھریوں سے انکے بدن کا گوشت کاٹ کاٹ کر صرف ہڈیوں کا ڈھانچہ تحفہ کے طور پر چھوڑ دیا گیا۔

اک قیامت کی گھڑی تھی آل احمد ص کے مدح خوانوں پر
یا خدا! قہر کی بجلی گرا دو ان ظلم کے ایوانوں پر

التماس سورہ فاتحہ شہدائے سانحہ 1988