تحریر : امداد علی گھلو

شہید علامہ سید ضیاء الدین رضوی اپنی ذات میں اک انجمن اور تحریک تھے، انتہائی دشوار و تکلیف دہ حالات میں بھی قومی پلیٹ فارم تحریک جعفریہ پاکستان سے وابستہ رہتے ہوئے قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے دست و بازو رہے۔ تحریک جعفریہ گلگت و بلتستان کی مسئولیت سے لے کر نصاب تعلیم کی تحریک تک آپ ہمیشہ متحرک اور فعال نظر آئے۔ آپ عالم باعمل، مجاہد اسلام، مدافع ولایت و قیادت اور اتحاد امت کے سچے داعی تھے، آپ کی علمی، ملی و قومی، مذہبی، سیاسی اور سماجی خدمات بہت نمایاں اور قابل قدر ہیں۔

آپ نصاب تعلیم کے حوالے سے ہمیشہ شیعہ عقائد کا بھرپور دفاع اور اصولوں کی پاسداری کرتے ہوئے نصاب تعلیم کے جلسوں اور احتجاجات میں فرما تے تھے : تعلیم پر سرمایہ ہمارا خرچ ہو؛ کتابیں ہم خریدیں؛ اسکولز ہمارے ہوں؛ اساتذہ ہمارے ہوں؛ اسٹوڈنٹس ہمارے اپنے بچے ہوں لیکن نصاب تعلیم ہمارے عقائد کے خلاف ہو، یہ ہم کیسے قبول کر سکتے ہیں؛ عقائد کے معاملہ میں سودا بازی نہیں ہو سکتی۔ ہمیں شہادت کا سرخ لباس تو زیب تن کرایا جا سکتا ہے مگر اس مطالبہ سے کبھی دستبردار نہیں کرایا جا سکتا۔ واضح رہے کہ شہید رضوی کے اس مطالبہ کا مقصد ہر گز یہ نہیں تھا کہ فقط شیعی تعلیمات کے مطابق ہی نصاب تعلیم ترتیب دیا جائے بلکہ انھوں نے تمام مسالک و مکاتب کے لئے آواز بلند کی لیکن ان کے نقطہ نظر کو صحیح انداز سے نہیں لیا گیا اور سمجھا نہیں گیا؛ اگر شہید رضوی کے اصولی موقف کو مثبت انداز سے لے کر سمجھا جاتا تو آج حالات یکسر مختلف ہوتے۔

قائد ملت جعفریہ پاکستان کی شخصیت کُشی کا سلسلہ جب شروع ہوا تو اس وقت شہید رضوی دیگر امور کے علاوہ جامع مسجد گلگت میں امام جمعہ و جماعت کی خدمات بھی انجام دے رہے تھے، تو تحریک جعفریہ سے انھیں توڑنے کے لئے چال چلی گئی اور فلاں کی جانب سے انھیں کہا گیا کہ اگر آپ علامہ ساجد نقوی کو خیرباد کہیں تو آپ کو فلاں فلاں مراعات دی جائیں گے اور آپ کے لئے جانیں بھی فدا ہونے کے لئے تیار کھڑی ہیں۔ شہید رضوی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا : میں اس مسجد کے امور چھوڑ سکتا ہوں لیکن قائد ملت جعفریہ پاکستان حضرت علامہ سید ساجد علی نقوی کو نہیں چھوڑ سکتا۔

عوام، شہید رضوی کے حکم پر اپنا سب کچھ قربان کرنے کے لئے آمادہ نظر آتے تھے، لیکن انھوں نے عوام کو ہمیشہ اتحاد بین المسلمین اور امن و امان کا اصولی درس دیا۔ شہید رضوی کی دور اندیش نگاہوں اور سیاسی بصیرت نے آنے والے وقت کا بخوبی اندازہ لگا لیا تھا اور قوم کے لئے اتحاد بین المسلمین جیسے زریں رہنما اصول بتا دیئے تھے۔ ایک سچے مسلمان کی یہی نشانی ہے کہ وہ کبھی اصولوں پر سودا بازی نہیں کرتا بلکہ وہ ہمیشہ اصولوں کی پاسداری کرتا ہے؛ آپ ایک عظیم مذہبی، اجتماعی اور سیاسی مدبر رہنما تھے۔

آج گلگت بلتستان اپنی تاریخ کے اہم موڑ پر کھڑا ہے، شہید ضیاء الدین رضوی کے نظریات کے تحت ہی اس موڑ کو عبور کیا جا سکتا ہے۔ جس طرح انھوں نے اپنے مذہبی، شہری، قانونی اور آئینی حقوق کے لئے جانفشانی اور خلوص کے ساتھ جدوجہد کر کے اصولوں کی پاسداری کی، وہ کارکنوں کے لئے مشعل راہ ہے۔ جو بھی اپنی زندگی کے سرمایہ حیات میں شہید رضوی جیسی مثال بن کر سامنے آئے گا قوم و ملت اس پر بھی فخر کرے گی۔

ان کی برسی منانے کا دن ہمیں موقع فراہم کرتا ہے کہ گلگت بلتستان کے حالات کا بغور جائزہ لیا جائے، اس وقت ملت جن مسائل میں گھری ہوئی ہے، اس کی ایک بڑی وجہ شہید رضوی کی فرمائشات سے رو گردانی بھی ہے۔ افسوس کی بات ہے کہ شہید نے جو سبق سکھایا تھا، اسے فراموش کردیا گیا جس کی وجہ سے گوناگوں مسائل پیدا ہوئے۔ آج ان کے سکھائے گئے سبق کی یاد دہانی اور اس پر عمل کرنے سے ہی ترقی و خوشحالی کا خواب شرمندۂ تعبیر کیا جا سکتا ہے۔