گلگت شہر کی بڑھتی ہوئی آبادی کو مدنظر رکھتے ہوئے شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی اعلی اللہ مقامہ نے نئی جامع مسجد کی تعمیر کے منصوبے پر غور شروع کیا اور اس حوالے سے اکابرین شہر کا ایک اجلاس بلایا۔ پرانی مسجد میں پندرہ سو نمازیوں کے لئے گنجائش تھی جبکہ آبادی بہت زیادہ بڑھ گئی تھی۔ اجلاس میں غور و خوض کے بعد مسجد سے ملحقہ زمینوں کو پہلے خریدنے کا پروگرام بنایا گیا۔ اس طرح مومنین کے تعاون سے کافی زمین خریدی گئی اور مومنین کی ایک کمیٹی بنائی گئی جس کی سرپرستی خود شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی کرتے تھے۔ کمیٹی میں ہر قسم کے ماہرین موجود تھے گلگت شہر سے باہر ارد گرد کے علاقوں میں بھی مسجد کی تعمیر کی خبر پہنچائی گئی۔ اور نئی مسجد کی تعمیر کے لئے منصوبہ بندی شروع کی گئی۔ نئی مسجد کا ڈیزائن، قرار ایسوسی ایٹس اسلام آباد، والوں نے بنایا جو معمولی رد و بدل کے بعد منظور کیا گیا۔

اس طرح پرانی مسجد کو ۲۳ اپریل ۲۰۰۰ء سے اکھاڑنا شروع کیا گیا اور ۳ جون تک کام مکمل ہوا پھر نئی مسجد کی بنیادیں نکالی گئیں۔ اور ۲۰ جولائی ۲۰۰۰ء کو مسجد کا سنگ بنیاد خود شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی اعلی اللہ مقامہ نے اپنے ہاتھوں سے رکھا۔ اس اجتماع میں مومنین کے علاوہ اہلسنت اور اسماعیلیہ زعماء بھی موجود تھے۔ شہید آغا نے سنگ بنیاد رکھنے کے بعد دعا کی، اس کے بعد ٹیکنیکل سٹاف کے ذمے تعمیراتی کام سونپا گیا۔ ماہرین تعمیرات میں دیامر سے تعلق رکھنے والے جناب خورشید صاحب ایکسئن بھی شامل تھے ۔

کاریگروں میں مسجد نبوی کی تعمیر میں خدمات انجام دینے والے ہری پور کے جناب فیاض صاحب اور ان کی ٹیم بھی شامل تھی۔ مومنیں کی طرف سے ماہرین تعمیرات اور کاریگر تو پہلے سے شامل تھے شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی کے حکم پر لبیک کہتے ہوے مومنیں نے مسجد کی تعمیر کے لئے دل کھول کر امداد کی کسی نے لکڑی دیا تو کسی نے بجری، کسی نے پتھر دیا تو کسی نے نقدی رقم، کسی نے سیمنٹ دیا تو کسی نے مشینری، کسی نے سریا دیا تو کسی نے تیل فراہم کیا اسی طرح نگر، بگروٹ، حراموش، بارگو، شروٹ اور گلگت کے گرد و نواح کے مومنین کے علاوہ سکردو اور پاکستان کے دوسرے شہروں کے مومنین نے بھی مرکزی امامیہ جامع مسجد گلگت کی تعمیر کے لئے مالی تعاون کیا۔ شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی اعلی اللہ مقامہ اور سید شرف الدین کاظمی کے مطابق مسجد کا ۷۰ فی صد کام مکمل ہونے تک ۱۲۹،۸۷،۷۴۲ روپے خرچ ہوئے تھے جبکہ مومنین کی طرف سے چندے کی شکل میں تقریباً ۱۳۲،۰۷۸۰۲ روپے جمع ہوئے تھے اس کے علاوہ اجناس کی شکل میں دی ہوئی امداد علٰحیدہ ہے ۔

مسجد کا نقشہ دو منزلہ تھا مگر شہید آغا نے لوگوں کی رائے کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوے تین منزلہ عمارت کا پروگرام بنایا۔ اس طرح مسجد کی زمینی منزل کا احاطہ۹۶× ۱۵۰ فٹ دوسری منزل کا کل احاطہ ۸۱×۱۳۲ فٹ اونچائی ۱۸ فٹ جبکہ تیسری منزل کی ۵۵×۱۰۸ فٹ احاطہ اور ۱۶ فٹ اونچائی کے مطابق تیار ہوئی۔

پہلی منزل میں ۵ ہزار، دوسری منزل میں ۳۵۰۰ اور تیسری منزل میں ۱۵۰۰ نمازیوں کے لئے گنجائش رکھی گئی ہے۔ مسجد میں پانچ گنبد تعمیر کئے گئے ہیں ایک درمیان میں بڑی گنبد دو درمیانی اور دو چھوٹے گنبد موجود ہیں۔

جب پہلی منزل میں گنجائش بن گئی تو شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی اعلی اللہ مقامہ نے ۲۷ اپریل۲۰۰۱ ء کو پہلی جمعہ پڑھائی۔ اس طرح تیسری منزل کی تکمیل پر ۲۵ مئی ۲۰۰۴ء کو پہلی نماز ظہرین پڑھائی۔ اسی وقت تقریباً ۱۲۰۰ نمازی موجود تھے اس روز شہداء سانحہ ۸۸ ء کی برسی بھی تھی۔