شہید حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جہانگیر حسین مناوری

شہید حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جہانگیر حسین مناوری کا تعلق گلگت کے نواحی علاقے مناور سے تھا۔ شہید اپنے خاندان میں واحد فرد تھے جو مذہب حقہ تشیع اختیار کرچکے تھے جبکہ ان کا سارا خاندان اب بھی غیر شیعہ مسلک سے تعلق رکھتا ہے۔ شہید علامہ جہانگیر حسین مناوری نے دینی تعلیم کا آغاز مدرسہ جعفریہ کراچی سے کیا اور اعلی تعلیم کے لئے حوزہ علمیہ قم المقدسہ تشریف لے گئے۔

سانحہ ۱۹۸۸ کے دوران شہید حوزہ علمیہ قم سے ماہ مبارک رمضان میں تبلیغ دین کی غرض سے گلگت تشریف لے گئے تھے اور اپنے آبائی گاوں مناور میں دینی و تبلیغی خدمات انجام دے رہے تھے۔ اسی دوران وہابیوں کی جانب سے گلگت بلتستان پر لشکر کشی کا آغاز ہوا۔ حملہ آوروں نے مناور گاوں پر قابض ہونے کے بعد شہید جہانگیر حسین مناوری کو گرفتار کرکے شیعہ مذہب کو ترک کرنے کا کہا جبکہ شہید نے انکار کرتے ہوئے شہادت کو ترجیح دی۔

شہید حجۃ الاسلام والمسلمین شیخ جہانگیر حسین مناوری کو ان کے آبائی گاوں مناور میں ان کے ہم زلف حجۃ الاسلام شیخ ناصر عباس نورانی کے ساتھ گولیوں کا نشانہ بنا کر شہید کیا گیا۔

شہید حجۃالاسلام والمسلمین شیخ جہانگیر حسین مناوری اور شیخ ناصر عباس نورانی کا مزار گلگت شہر کے خومر چوک سے ذرا اوپر محلہ خومر ڈموٹ میں واقع ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here