یہ وہ شب تھی کہ وقت کے حکمرانوں اور پشت پناہوں نے پے در پے نظریاتی محاذ پر بدترین شکست کے بعد مدافع ولایت علامہ سید ضیاء الدین رضوی کو گرفتار کرنے کا فیصلہ کیا. تاریخ انسانیت اس بات کی گواہ ہے کہ ظلم و جبر کے ترجمان آئین اور قانون کو ہمیشہ رونتے رہے اور ناانصافیوں اور ستم کی داستانیں رقم کیں جو زبان زد عام ہوا کرتی ہیں رات کے پچھلے پہر فورسز کی بھاری تعداد نے مجاہد ملت علامہ سید ضیاءالدین رضوی کے گھر کا محاصرہ کیا اور چونکہ مومنین کو اس چیز کی حساسیت کا بخوبی علم تھا لہذا مومنین اور فورسز شہید کے گھر سے محلقہ سڑک پر آمنے سامنے آنے پر شدید تصادم اور بدامنی کا خدشہ بڑھنے لگا جس پر علامہ سید ضیاءالدین رضوی نے خود گرفتار ہونے کا فیصلہ کیا اور باہر نکلے۔

عینی شاہدین کے مطابق جب آغا شہید گرفتاری کے لیے گھر سے باہر نکلے تو جذبات سے بھرپور مومنین کسی صورت آغا شہید کی گرفتاری پر آمادہ نہ تھے کئی میٹر کے علاقے میں نوجوانوں نے سڑک پر لیٹ کر واضح کردیا کہ کسی صورت گرفتاری قبول نہیں مگر شہید آغا ضیاءالدین جس نے قوم کی رہنمائی میں ہمیشہ قانون اور آئین کا راستہ اپنایا اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہم پاکستان کی بات کرتے ہیں اور اپنے حقوق کی بات کرتے ہیں. اس ملک عزیز کے قیام کی تحریک سے لے کر اس کی بقا کی کوشش میں ہمارا کردار اہم ہے. ہم نے آئین کی بالادستی کو تسلیم کرنے کا مطالبہ کیا ہے لیکن انتظامیہ اور حکومت علاقے کی فضا کو خراب کرنے کے درپے ہیں۔ اس لئے اپنے حصے کی دلیل دینے کے لیے بہت ضروری ہے. ہمارے نظریات اہم ہوتے ہیں اور ہم نے اپنے مکتب کی آبیاری ہمیشہ خون کے نذرانے اور زندہ آباد کرکے کیا ہے مجھے اجازت دیں کہ جو حق کی بات ہے وہ کروں۔

آخر کار آغا شہید گرفتار کر لئے گئے اور پھر وقت نے ثابت کیا دلیل کی بنیاد پر اپنا اصولی موقف مرتب کیا اور اس حوالے سے 3 جون 2004 کے لیے پرامن احتجاج کے دوران شہید واجد حسین کو شہید کر دیا گیا یہ تحریک اصلاح نصاب کے پہلے شہید ہیں.

آج بھی ضرورت ایسی مجاھدانہ طرز عمل کی ہے جو عظمت اسلام کی ترجمانی کرے.

نگاہ بلند سخن دلنواز جاں پرسوز
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لیے