کسی شہر میں جب کوئی بڑا آدمی اس دار فانی سے کوچ کر جاتا ہے تو شہر کے اکثر پڑھے لکھے احباب کہتے ہیں کہ مرحوم اپنی ذات میں خود ایک انجمن تھا، مگر ایک شخصیت اس پاکستان میں ایسی بھی گزری ہے کہ جو بظاہر تو ایک خاص الخاص کمیونٹی سے تعلق رکھتی تھی، مگر ملک کے کونے کونے میں اس کی گونج تھی، وہ تھا ہی ایسا متحرک و بے باک کہ رہتا تو و ملک کے ایک کونے میں تھا مگر اس نے کمندیں ملک کے آخری کونہ تک ڈالی ہوئی تھیں، اپنی ذات میں انجمن ہونا جیسے الفاظ و جملے تو حسن ترابی شہید کے ہاتھ کی صرف انگشت شہادت تک ہی رہ جاتے ہیں اس سے آگے ان کے ان کی قوت پرواز ختم ہوجاتی ہے کیونکہ وہ اپنی ذات میں پوری ایک کمیونٹی کو سموے ہوئے تھا، جی ہاں وہ جہاں جاتا، پوری قوم اس کے ساتھ چلتی وہ جہاں ہوتا، پوری قوم اس کے ساتھ موجود ہوتی وہ جہاں بیٹھتا، پوری قوم وہاں ٹانگیں پسار کر بیھٹ جاتی وہ جہاں بولتا، پوری قوم کی آواز ہوتا وہ سندھ میں ہر شہید کے لاشہ پر اس کے عزیزوں سے پہلے موجود ہوتا تھا وہ اتنا متحرک تھا کہ کوئی بھی قومی ذمہ داری اس سے ہٹ کر گزر ہی نہیں پاتی تھی، وہ شہر کراچی کا جنرل سیکریٹری تھا، جب پورے صوبہ کا سیکریٹری تھا تب پورے صوبہ سندھ کا صدر تھا تب، متحدہ مجلس عمل کا عہدہدار تھا جب وہ ہر عہدہ و ذمہ داری کو چار چاند لگا دیتا تھا، ذمہ داریاں اس کے تعاقب میں رہتی تھیں، وہ ان سے آگے آگے چلتا تھا، وہ امام علی کا سچا پیروکار و اسلام محمدی کا حقیقی فرزند تھا.

آج کوئی لکھاری و مؤرخ اس کے متحرک ہونے کی منظر کشی نہیں کرسکتا آج کوئی عام ذھن یا قلم اس کی فعالیت کا اندازہ نہیں کرسکتا ہے آج واقعا حسن ترابی شہید پر لکھنے والا ڈاکٹریٹ کی ڈگری لے سکتا ہے آج ملت کے قاید و نمائندہ ولی امر المسلمین کے علاوہ بلا مبالغہ پورے ملک میں حسن ترابی جیسا متحرک و جانباز ملت کا محافظ ڈھونڈے سے نہیں ملے گا آج شہادتوں کا سفر اتنا تیز تر ہوچکا ہے کہ حسن ترابی جیسے شہید سالار کی یاد راہ حق کے ہر مسافر کو بے چین کیے دے رہی ہے کراچی کی ایک بستی ( نیو کراچی ) کی مسجد سکینہ سے 1982 میں اٹھنے والی ملی سیاست و مصائب کی لہر آج پاکستان میں شیعہ شہادتوں کے ساتوں سمندروں کا سب سے قدیم پانی بن چکی ہے مسجد سکینہ کا واقعہ، پھر بند روڈ کا تین روزہ دھرنا، مرکزی امام بارگاہ لیاقت آباد کا سانحہ، لیاقت آباد میں شعیوں کے گھروں کا جلایا جانا اور وہاں سے شیعہ آبادی کی ہجرت اور پھر کراچی ہی میں ایک جلوس عاشورہ کا امام بارگاہ علی رضا پر دن بھر رکا رہنا، یہ سب واقعات حسن ترابی جیسے لیڈر کی متحرک زندگی کا نقطہء آغاز تھے، مگر آج شہید حسن ترابی کی 10 برسی کے موقع پر راقم الحروف یہ سوچ رہا ہے کہ وہ حسن ترابی شہید کی کس کس فعالیت کا ذکر کرے۔

حسن ترابی شہید کی فعالیت ایک دریا، تو راقم کا دماغ صرف اس دریا میں چلنے والی ایک چھوٹی سی کشتی اور قلم اس کشتی کا معمولی سا چپو ہے یقینا چوبیس سال سے ملت کی قیادت سنبھالے ہوے قائد ملت جعفریہ ( کہ جن کی قیادت آج اس مقام پر ہے کہ علاوہ رہبر معظم کوئی ان کی ہمسری نہیں کرسکتا ہے، دنیا کے تمام ممالک بلا تشخص اسلامی و غیر اسلامی، کے اندر موجود شیعہ کمیونٹیز تو کجا خود مسلمانوں میں ایسا کوئی بھی مذھبی لیڈر موجود نہیں ہے کہ جو سیاست دین میں مدرسہ نہیں، یونیورسٹی نہیں بلکہ پورا حوزہ ہو، ساری دنیا گھوم کر آجایے دنیا کے کسی کونہ میں آپ کو خط انبیاء، خط آئمہ، خط امام خمینی، پر سیاست کرنے والی شخصیات میں سے ایک بھی ایسا لیڈر و رہنما بعد از رہبر معظم نہیں ملے گا، یہ راقم کا ہر عالم و جاہل کو کھلا چیلنج ہے — مسلہ یہ ہے کہ انبیاء بہت اچھے تھے، ختم المرسلین رسول خدا ساری بشریت سے اعلیٰ تھے، مگر انبیاء و ختم المرسلین کو امتیں اچھی نہیں ملیں، مولا امام علی بے مثل تھے، لیکن امت و اصحاب وہ ہی تھے جو رسول خدا کے تھے، سوائے امام حسین کے اصحاب کسی کے بھی تاریخی حیثیت کے حامل نہیں ہوسکے آج بھی ایسا ہی ہے، جب امام علی جیسے امام اچھی امت و اصحاب سے محروم تھے تو آج غلام امام علی ساجد علی بھی اچھی امت سے محروم کر دیے گیے پاکستان میں نایب امام کے نایب آیت الله ساجد علی نقوی ہی ایک ایسی واحد شخصیت ہیں کہ جو شہید حسن ترابی کو سمجھ سکے ہیں، حسن ترابی شہید، قائد ملت کے لیے پاکستان کے صوبہ سندھ میں وہ ہی حیثیت رکھتے تھے کہ جو مولا امام حسین کے لشکر میں مولا عباس علمدار کی تھی، اس بات کو آج کے دور کا ہر کس و نا کس درک کر ہی نہیں سکتا ہے کہ شہید علامہ حسن ترابی کی شہادت، شہید قائد علامہ عارف حسینی کے بعد دوسری سب سے بڑی شہادت تھی کہ حسن ترابی واقعا صوبہ سندھ کا عارف حسینی و ساجدعلی نقوی تھا۔

آج راقم کا قلم ٹوٹے جا رہا ہے حسن ترابی کے لیے سوچتے سوچتے کہ وہ سندھ کی سر زمین پر دین و اسلام ناب محمدی کا کتنا بڑا سپاہی تھا، وہ ہر میدان کا مرد جری تھا، وہ ساجد علی نقوی جیسے لیڈر کا حقیقی جانشین تھا، راقم نے 1998 میں اپنے اصحاب با وفا کو فیصلہ دے دیا تھا کہ یہ شخص حسن ترابی ہر حال میں شہادت کے درجہ پر فایز ہوگا، اس شخص کا انعام شہادت کے علاوہ ہو ہی نہیں سکتا —

حسن ترابی کے لیے سارے تکفیری گروہوں نے مل کر زور لگایا ہوا تھا کہ کسی طرح بھی ممکن ہو اس لیڈر کو ہر حال میں ختم کرنا ہے ‘ ایک مرتبہ دوستوں نے پوچھا کے آغا آپ اپنی حفاظت کی کیوں پروا نہیں کرتے ہیں تو مرد مجاہد کہنے لگا میری حفاظت کا ضامن الله رب العزة ہے، میں گھر سے نکلتے وقت وہ آیات تلاوت کر کے چلتا ہوں کہ جو رسول الله نے وقت ہجرت دشمنوں سے محفوظ رہنے کے لیے تلاوت کی تھیں، یہ ہی وجہ تھی کہ سارا یزیدی لشکر حسن ترابی کو مارنے سے عاجز آچکا تھا، آخر کو، اس نے ایک انتہائی الگ و خاص طریقہ سے اس مرد قلندر کو مارنے کی ٹھانی، اور ایک دہشت گرد خودکش بمبار کو شیعہ سید عالم (کالی عبا و کالا عمامہ) کا لباس پہنا کر کہ جس کے اندر اس نے جیکٹ بم پہنا ہوا تھا، کو شہید حسن ترابی کے گھر ان سے ملنے بھیجا، اور اس طرح وقت کا بو لہب و بو سفیان و بو معاویہ و یزید سندھ پاکستان کے سالار لشکر محمد و علی و حسن و حسین و خمینی و خامنائی و ساجد نقوی کو شہید کرنے میں کامیاب رہا، مگر اس دن حسن ترابی مرے نہیں تھے بلکہ اس دن ان کے دشمنوں نے ان کے قدموں میں گر کر اپنی ناک زمین پر رگڑی تھی اور حسن ترابی سے گڑ گڑا کر یہ التجا کی تھی کہ خدارا تم اس دنیا سے چلے جاؤ، ہم سے تمہارا مقابلہ نہیں ہو پارہا ہے، تم بہت طاقتور ہو اور ہم بہت کمزور، اور آخر کار کفر و شیطان و یزیدیت کی اس التجا پر وقت دوراں میں، امام علی و امام حسین کے ایک اور بیٹے حسن ترابی کو اس پر رحم آگیا اور اس نے اپنے گھر کے دروازہ کے باہر آ کر اپنی تلوار نیام میں رکھ لی اور ” رب کعبہ کی قسم میں کامیاب ہوگیا” کا نعرہ لگا کر خدا کے حضور ایک نفس مطمئن بن کر پہنچ گیا، خدا ہم سب کو شہید حسن ترابی جیسا فعال کارکن ہونے کی توفیق عطا فرمائے (آمین)