شہید آغا ضیاءالدین اور قائد ملت جعفریہ علامہ ساجد نقوی

شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی (اعلی اللہ مقامہ) انقلاب اسلامی ایران، حضرت امام خمینی (قدس سرہ) اور رہبر معظم انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ خامنہ ای کے عاشق تھے۔ شہید کا عقیدہ تھا کہ مسلمانوں کی نجات اور عزت صرف اور صرف حضرت امام خمینی (رضوان اللہ )کے نورانی افکار کی پیروی اور ولی فقیہ کی اطاعت کرنے میں ہے۔ شہید کا نظریہ تھا کہ جو نظام حقیقی معنوں میں مسلمانوں کا دفاع کرتے ہوئے اسلام کے دشمنوں کے سامنے ڈٹا ہوا ہے وہ اسلامی جموریہ ایران کا نظام ہے۔ شہید بزرگوار کسی کو بھی اسلامی جمہوریہ ایران اور رہبر معظم انقلاب کی چھوٹی سی بھی اہانت کرنے کی اجازت نہیں دیتے تھے۔ شہید کے گلگت آنے سے پہلے وہابی یہ نعرہ لگاتے تھے ’’کافر کافر شیعہ کافر، خمینی کافر‘‘ لیکن شہید کے گلگت آنے کے بعد کسی کی جرائت نہیں تھی کہ اس قسم کی غلیظ زبان استعمال کرے۔ اس کے علاوہ شہید سید ضیاءالدین رضوی نے علامہ شہید سید عارف حسین الحسینی(رہ) کی سیرت اور ان کے کردار اور افکار کو اپنی زندگی کا نصب العین قرار دیا تھا۔ شہید کی نظر میں عارف حسینی کی شہادت پاکستان کی شیعہ قوم کے لئے ان کی زندگی کا سب سے بڑا نقصان تھا در حالیکہ خود شہید سید ضیاءالدین رضوی کی شہادت سے جو نقصان گلگت بلتستان کے شیعوں کو ہوا وہ نقصان علامہ سید عارف کی شہادت سے کم نہ تھا۔ بلکہ شہید بزرگوار عالم و مجاہد اور قائد ہر دل عزیز شیعیان پاکستان علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد شہید سید ضیاءالدین رضوی کی شہادت شیعیان پاکستان بالخصوص شیعیان گلگت بلتستان کے لئے بہت بڑا المناک اور ناقابل فراموش سانحہ تھا۔

شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی نے علامہ عارف حسین الحسینی کی شہادت کے بعد قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کے خط کو اپنایا ہوا تھا۔ وہ ہر وقت قائد ملت کی حمایت کرتے تھے اور وہ بھی ان کو اپنا دست راست سمجھتے تھے۔ شہید کا فرمان تھا : ’’ کوئی بھی شخص مرکز سے رابطہ رکھے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا‘‘۔ اس بارے میں شہید کی بہت سی ویڈیوز بھی پائی جاتی ہیں جہاں پر انہوں نے بھر پور انداز میں قائد ملت کی حمایت کی ہے اور قائد محترم پر لگائے گئے الزامات کی سخت مخالفت اور شیدید مذمت کی ہے۔ قائد محترم ساجد علی نقوی کی حمایت اور شجاعانہ قیادت کے سلسلے میں شہید سید ضیاء الدین رضوی کی طرف سے کی گئی تقریر کے ایک حصے کو ایک ویڈیو کلپ سے نقل کررہے ہیں تاکہ قارئین استفادہ کریں :

’’قائد محترم علامہ سید ساجد علی نقوی کو ہر طریقے سے مرعوب کرنے اور دبانے کے لئے ان کو پابند سلاسل کیا گیا۔ پھر کیسی شرایط رکھیں وہ شرایط کیا تھیں، لوگ کہتے تھے کہ یہ قتل کیس ہے فلاں ہے، نہیں، مسئلہ قتل کیس نہیں تھا، مسئلہ یہ تھا کہ حکومت دشمن کی ہمنوا بن کر يه چاہتی تھی كه کل دشمن جومطالبہ کر رہا تھا، آج قائد سے حکومت خود وہ مطالبہ کر رہی ہے، کہ جناب یہ شرط بھی مان لیں، یہ شرط بھی مان لیں، لیکن قائد محترم نے فرمایا کہ میرے لئے ان شرایط کو قبول کرنے سے آسان مسند شہادت ہے۔ میں مسند شہادت کو قبول تو کر سکتا ہوں لیکن اس ذلت آمیز ان شرایط پر میں کبھی بھی دستخط نہیں کر سکتا.چنانچہ وہی آپ نے ثابت کر کے دکھایا۔ کیس کا سلسلہ چل رہا ہے۔انشاء اللہ حق کی نصرت ہو گی دشمنوں اور حکام کا یہ ستم اور ان کا یہ ظلم جو چلا آرہا ہے۔ برادران ہمیں ان ساری چیزوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس وقت پاکستان کے اندر تشیع کا وجود بہت بڑے خطرے سے دوچار ہے۔ اس وقت اگر ہم نے اپنے وجود کے تحفظ کی کوشش نہ کی تو کل کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتاہے۔ خدا ہمیں توفیق دے کہ ہم بیدار اور ہوشیار ہو جائیں۔اور پاکستان کے اندر مذہب اہل بیت علیہم السلام پر خود بھی پابند رہتے ہوئے اس مذہب کی پاسداری کرتے ہوئے اپنی جان ہتھیلی پر رکھتے ہوئے میدان عمل میں ہمیشہ آمادہ و تیار رہیں اور جب تک زندگی ہے حق پر عمل ہوتا رہے اور اگر زندگی جائے تو حق پر قربان ہو جائے ۔‘