سانحہ بابوسر

سانحہ بابوسر

16 اگست 2012ء گلگت بلتستان کی تاریخ میں ظلم کا ایک نیا باب اس وقت رقم ہوا جب دہشت گردوں نے چلاس میں بابوسر کے مقام پر راولپنڈی سے استور اور گلگت جانے والی تین مسافر بسوں کو روک کر مسافروں کے شناختی کارڈ چیک کرکے شیعہ مکتبہ فکر سے تعلق رکھنے والے 11 مسافروں کو صفوں میں کھڑا کرکے فائرنگ کرکے شہید کر دیا تھا۔ سکیورٹی اداروں کے وردی میں ملبوس دہشتگردوں نے یہ خون کی ہولی دن کے اجالے میں نہایت تسلی سے کھیلی اور سکیورٹی اداروں کو کانوں کان خبر تک نہ ہوئی۔ بابوسر ٹاپ پر ایک درجن کے قریب مسافرین کو شہید کرنے کے بعد دہشتگرد اطمینان کے ساتھ پہاڑوں پر چڑھ گئے اور بہ آسانی فرار ہوگئے۔ اس واقعے کے خلاف پورے خطے میں کئی روز تک احتجاج جاری رہا اور دہشتگردوں کی گرفتاری کا مطالبہ ہوتا رہا لیکن گلگت بلتستان کی پیپلز پارٹی کی صوبائی اور وفاقی حکومت دہشتگردوں کا تعاقب نہ کرسکی۔

آج اس افسوسناک سانحے کو گزرے 8 سال کا عرصہ بیت گیا ہے لیکن دہشتگردوں کو نشان عبرت بنانے کا خواب اب تک شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ سانحہ چلاس اور کوہستان کے بعد سانحہ بابوسر کے شہداء بھی منوں مٹی تلے محو آرام ہیں اور ان سانحات کے خلاف جاری تفتیش اور کمیشن کی رپورٹیں اور فائلیں دیگر بدبودار فائلوں میں ہمیشہ ہمیشہ کے لئے دب کر رہ گئیں۔ سانحہ بابوسر میں شہید ہونے والوں میں کراچی کے مشہور قاری اور خاص طور پر دعائے کمیل کی تلاوت کی مناسبت سے مشہور قاری حنیف بھی شامل تھے جبکہ دیگر شہداء میں غلام نبی، مشرف، یعقوب، ڈاکٹر نثار، دولت علی، اشتیاق، ساجد، محمد مظہر، جلال الدین اور غلام مصطفٰی شامل ہیں۔