سابق ڈکٹیٹر جنرل پرویز مشرف کی حکومت نے سپاہ صحابہ کے سرغنہ اور پاکستان کے معروف دہشت گرد اعظم طارق قتل کیس میں قائد ملت جعفریہ پاکستان علامہ سید ساجد علی نقوی کو گرفتار کیا تھا۔ قائد ملت جعفریہ پر قتل کا الزام عائد کرتے ہوئے اڈیالہ جیل میں پابند سلاسل کیا گیا اور قائد ملت جعفریہ علامہ سید ساجد علی نقوی اعظم طارق قتل کیس میں کئی ماہ پابند سلاسل رہے۔

اس دوران شہید علامہ سید ضیاءالدین رضوی گلگت میں ہر نماز جمعہ کے بعد قائد ملت جعفریہ کی رہائی کے لئے احتجاج مظاہرے کرتے تھے اور ان مظاہروں میں مومنین کی کثیر تعداد شریک ہوتی تھی۔