شہید نواز عرفانی
ابتدائی زندگی :
آپ یکم جنوری 1970 کو گلگت کے علاقے دنیور میں پیدا ہوئے اور ابتدائی تعلیم وہیں سے حاصل کی آپ کا گھرانہ ایک اسماعیلی شیعہ گھرانہ تھا لیکن آپ کے دادا یا والد نے مذہب اثنا عشریہ کو اسماعیلی مذہب پر فوقیت دے کر امامیہ اثناعشریہ مذہب سے منسلک ہوئے اور اس کے نتیجہ میں بہت ساری پریشانیاں اور صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔

علمی زندگی :
آپ کے والد گرامی نے ان تمام تر صعوبتوں کو تحمل کر کے اپنے اس فرزند ارجمند کو حوزہ علمیہ جامعۃ المنتظر لاہور کی طرف بھیجا وہاں پر آپ نے دینی تعلیم حاصل کی اور بزرگ علماء کرام سے مستفید ہوئے اور آپ نے مدرسے کی زندگی میں بھی ماں باپ کے عقیدے کو خاندانی عقیدہ سمجھ کر نہیں بلکہ ایک شیعہ اثنا عشری ہونے کے باوجود مختلف شکلوں میں اور مختلف بہانوں سے اسماعیلی جماعت خانہ جاکر مختلف کتابیں حاصل کیں اور انکا بغور مطالعہ کیا. مرحوم فرماتے تھے کہ کئی مرتبہ تو جماعت خانے کے گیٹ سے ان کو اندر جانے تک نہیں دیا کیوںکہ ہر کوئی جماعت خانہ نہیں جاسکتا ہے. آپ نے پوری ریسرچ کرنے کے بعد ٹھوس دلائل سے اپنے اجدادی عقیدے کو ٹھکرایا اور ایک راسخ العقیدہ شیعہ بن گئے۔ جامعۃ المنتظر سے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد آپ قم کی سرزمین پر تشریف لائے اور وہاں مجتہدین کرام کے دروس خارج میں شرکت کی۔ حوزه علميه قم میں آپ صرف 9 سال رہے اور اس عرصے میں مرحوم کے بقول ایک خصوصی استاد کے پاس درس پڑھا کرتے تھے جس میں یہ 11 طالبعلم ہوتے تھے اور بڑی محنت کے ساتھ اس مختصر عرصے میں تعلیم حاصل کی.

عملی زندگی (بحیثیت معلم) :
آپ میں ابتدا ہی سے قوم اور ملت کی خدمت کرنے کا جذبہ کوٹ کوٹ کر بھرا تھا اور اسی لئے آپ ایک مدرس کی حیثیت سے گلگت کے ایک دور افتادہ گاوں ہنوچل حراموش میں ایک مدرسے میں دو سال تک تدریس کے فرایض انجام دیتے رہے اور وہاں سے دو سال پورے ہونے کے بعد حجت الاسلام و المسلمین شیخ محمد شفا نجفی صاحب نے آپ کا تعارف مرحوم شیخ علی مدد صاحب سے کرایا اور آپ کی علمی صلاحیت سے آپ کو مطمئن کرایا تو اس طرح آپ مرحوم شیخ علی مدد صاحب کے توسط سے پاراچنار مدرسہ جعفریہ میں تقریبا 1995ء میں ایک استاد کی حیثیت سے تشریف لے آئے. چونکہ آپ دیگر اساتذہ سے کم عمر تھے اور بعض مدرسے کے موجودہ طلباء بھی شاید آپ سے عمر میں بڑے تھے تو کچھ لوگ آپ کو نظروں میں نہیں لاتے تھے. مجھے یاد ہے کہ جب معالم الاصول کا درس ہوتا تھا تو کلاس میں ہم 4 طالبعلم ہوا کرتے تھے آپ کا امتحان لینے کچھ طالبعلم دروازے کے پیچھے رہ کر سنا کرتے تھے. بعد میں جب ہم نے ان طالبعلموں سے پوچھا تو وہ کہہ رہے تھے کہ آقای عرفانی بے مثال ہیں اور اسطرح سے بہت سارے دیگر سینیر طالب علم بھی آپ سے کسب فیض کرنے کے درپے ہوئے.

پاراچنار میں ابتدائی زندگی :
آپ عربی ادبیات، منطق، فقہ، اصول فقہ اور دیگر علوم میں کافی مہارت رکھتے تھے اور ہر میدان میں اپنی مثال آپ تھے۔ مدرسہ جعفریہ پاراچنار میں آپ کی تشریف آوری کے بعد مدرسے میں اور رونق آگئی اور کمزور طالب علموں پر آپ نے خصوصی توجہ دی جس کے نتیجے میں مدرسہ جعفریہ پاراچنار کئی بار پاکستان کے مدارس میں اول رہا۔ آپ کے پاراچنار آنے کے فورا بعد 1996ء میں حق و باطل کا وہ عظیم اور غافلگیر معرکہ پیش آیا کہ جس کا کسی کو گمان تک نہ تھا۔ دو دن کی لڑائی کے بعد پورے شہر میں کرفیو لگا اور کچھ افراد کی غفلت سے ملیشیا فوج مدرسہ، مسجد اور امام بارگاہ پر قابض ہوئی لیکن اس کے باوجود مدرسے میں اساتذہ اور طالبعلم مقیم رہے۔ آخر کار مدرسے میں بھی کرفیو لگانے کا سوچا لیکن اساتذہ کی بصیرت سے ناکام رہے اور آخر کار سب کو گرفتار کر کے ملیشیا چھاونی میں لے گئے۔ وہاں پر مدرسے کے دیگر اساتذہ کے ساتھ شہید عرفانی بھی تھے۔

وہاں پر شہید آغا سخت بیمار ہوئے اور چونکہ سب نے بھوک ہڑتال کی ہوئی تھی اس لئے بیمار ہونے کے باوجود آغا شہید نے کچھ کھانے سے انکار کر دیا۔ اس طرح 13 دن کے بعد دیگر اساتذہ اور طلباء کے ہمراہ آپ کو بھی سب جیل منتقل کیا۔ اس وقت مرحوم شیخ علی مدد صاحب علیل ہونے کی وجہ سے کراچی زیر علاج تھے اور شہید آغا آپ کی نیابت کر رہے تھے تو اس لئے بھی آپ کو ملیشیا کے اندر بہت سی تکلیفیں برداشت کرنا پڑیں۔ ملیشیا چھاونی میں طلاب اور اساتذہ پر بہت تشدد ہوا تھا۔

بحیثیت پیش نماز :
آپ نے کچھ عرصہ کالج کالونی پاراچنار کی مسجد میں بھی نماز پڑھائی اور قابل غور بات یہ تھی کہ مختصر تین سال کے عرصے میں آپ نے پشتو زبان پر عبور حاصل کیا شہید آغا نے تو جمعہ کے خطبے بھی پشتو میں شروع کئے۔ یوں شہید آغا اجتماعی میدان میں کود پڑے۔ پھر وہ وقت بھی آیا کہ پاراچنار کی غیور عوام پر مصیبت کا تیسرا پہاڑ ٹوٹا اور مرحوم شیخ رجب علی اور شہید قائد عارف الحسینی کے بعد مرحوم شیخ علی مدد کا المناک ارتحال بھی قوم کو دیکھنا پڑا لیکن شیخ مرحوم نے اپنی اس سفر آخرت سے پہلے ہی شہید آغا کو اپنا جانشین منتخب کیا تھا تو اس طرح طوری قوم کو بہت جلد ہی سہارا ملا۔ لیکن اب شہید آغا کو یکے پس از دیگری سنگین مسائل کا روبرو ہونا پڑا کہیں داخلی مسائل تو کہیں طالبان اور دہشتگرد تنظیموں کا مقابلہ اور کہیں اپنوں کی تہمتوں اور شخصیت کشی تو کہیں بیرون ملکی عوامل کی طرف سے یلغار۔

طالبان کے خلاف آپ کا کردار :
جب ملک پر ملک دشمن عناصر طالبان نے حملے شروع کئے، تو دشمنوں نے پاراچنار کرم ایجنسی کو اپنا مرکز بنانے پر سرگرم رہے تو اس وقت شھید علامہ محمد نواز عرفانی نے کلمہ حق کی صدا بلند کرکے ان دشمن طالبان کے خلاف لڑنے کا اعلان کیا، طوری بنگش قوم نے آپ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے دشمن کا ڈٹ کر مقابلہ کیا اور آخر کار 3 سال کی جدوجہد کے نتیجے اور بغیر بیرونی مدد کے، ان طالبان کو شکست دی۔

بوشہرہ اہلسنت کی مدد :
طالبان کے خلاف جنگ کے دوران پاراچنار پاکستان کے دیگر علاقوں سے کٹ چکا تھا، اشیائے خورد و نوش ناپید ہوچکے تھے، تھوڑا مال افغانستان کے ذریعے پہنچتا تھا، ماہ رمضان کے دوران شھید علامہ محمد نواز عرفانی نے بوشہرہ کے اہلسنت کو رشتۂ انسانیت کے ناطے ضروریات زندگی فراہم کیں، اس ہمدردی کو مقامی اہلسنت آج بھی یاد کرتے ہیں۔

جلاوطنی :
مقامی حکومت نے آپ کو 2013-2014 علاقہ بدر کیا، آپ اس عرصے اسلام آباد میں مقیم رہے۔ اس کے خلاف مقامی اقوام نے بھرپور احتجاجی دھرنا دیا، لیکن بے سود رہا۔

شھادت :
ایجنسی اور صوبہ بدر ہونے کی وجہ سے آپ اسلام آباد میں رہائش پذیر تھے، 26 نومبر 2014 کو ایک منظم سازش کے تحت اسلام آباد کی E سیکٹر میں گھر کے نزدیک نامعلوم افراد نے فائرنگ کرکے آپ کو شھید کیا، شھید کو بعد ازاں تدفین کیلئے پاراچنار لایا گیا، جہاں لاکھوں لوگوں کی موجودگی میں سپردخاک کیا۔ شہید کا مزار پاراچنار میں بنایا گیا ہے۔