آرڈر 2020 کسی ایک فرقے یا ایک گروپ کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے۔ کیپٹن(ر) محمد شفیع

کیپٹن محمد شفیع خان

قائد حزب اختلاف اور اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے رکن اسمبلی کیپٹن(ر) محمد شفیع نے کہا ہے حافظ حفیظ الرحمن ظاہری طور پر وزیراعلی گلگت بلتستان کے ہیں مگر نمائندگی کشمیر کی کر رہے ہیں. آرڈر 2018 کی بلاجواز حمایت کر کے اور آج آرڈر 2020 کے خلاف خاموشی اختیار کر کے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کشمیر کے لیڈر ہیں اپنے ایک بیان میں انہوں نے کہا آرڈر 2020 کو نافذ کروانے کے لیے ممبران اسمبلی کو دو گروپس میں تقسیم کروا دیا ہے. یہ کسی ایک فرقے یا ایک گروپ کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری قوم کا مسئلہ ہے. ادھر حکومتی وزراء کہتے ہیں آرڈر 2020 نافذ ہونے کے بعد ہم اپنا رد عمل دینگے. اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ حفیظ الرحمن اور ان کا ٹولہ آرڈر 2020 کو نافظ کروانا چاہتے ہیں۔

اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے رکن اسمبلی کا مزید کہنا تھا کہ حکومتی وزراء کے آرڈر 2020 کے نافذ ہونے کے بعد اپنا رد عمل دینے کے بیان سے مجھ سمیت پوری قوم کو حیرت ہوئی ہے۔ وزیر اعلی نے آرڈر 2020 کے خلاف احتجاج کرنے والوں کو بھی تقسیم کر دیا. ایسا لگتا ہے حقوق کا مسئلہ صرف ایک فرقے یا ایک گروپ کا مسلہ ہے. آرڈر 2020 کے خلاف احتجاج کرنے والے حکومتی وزراء کو بھی دو گروپس میں تقسیم کر دیا. اگر کوئی وزیر یا مشیر واقعی مخلص ہے تو آرڈر 2020 نافذ ہونے سے پہلے اپنا رد عمل دیں. اگر ان چند وزراء اور وزیراعلی کی حمایت کی وجہ سے اس بار بھی کوئی آرڈر نافذ ہوا تو سخت نتائج سامنے آئینگے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here