اسلامی تحریک گلگت بلتستان کی میزبانی میں پارلیمانی جماعتی کانفرنس

اسلامی تحریک گلگت بلتستان

اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کی میزبانی میں پارلیمانی جماعتی کانفرنس کا انعقاد کیا گیا۔ کانفرنس میں وزیر قانون گلگت بلتستان اورنگزیب ایڈوکیٹ، چیئرمین پبلک اکاونٹس کمیٹی گلگت بلتستان کیپٹن ر سکندر علی، تحریک انصاف پاکستان کے کرنل ر عبیداللہ، پیپلز پارٹی کے امجد ایڈوکیٹ، مجلس وحدت مسلمین کے شیخ نیئر عباس اور جمیعت علماء اسلام کے عطاءاللہ شہاب نے شرکت کی. جبکہ شیخ مرزا علی، شیخ منیر حسین منوری، سابق صوبائی وزیر دیدار علی، محمد باقر سمیت اسلامی تحریک پاکستان گلگت بلتستان کے عہدیداران و کارکنان کی شرکت۔.

گلگت(پ ر)گلگت بلتستان کی پارلیمانی جماعتوں نے آرڈر 2020 کو یکسر مسترد کرتےہوۓ کہا ہے کی گلگت بلتستان کو آرڈرز پر چلانے کا سلسلہ بند ہونا چاہیے آرڈرز گلگت بلتستان کو خودمختاری نہیں دے سکتے ہے اور نہ ہی آرڈرز سے مسائل حل ہوسکتے ہے آرڈر کو جوتی کی نوک پر رکھتے ہے ہمیں آرڈر نہیں آٸین چاہیے ہماری پہلی اور آخری منزل پاکستان ہے اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے زیراہتمام پارليمانی جماعتی کانفرنس"استحکام پاکستان کی ضمانت آرڈر نہیں آئین پاکستان” کے عنوان سے منعقد ہوٸی جس میں پیپلزپارٹی۔ مسلم لیگ ن۔ تحریک انصاف۔ اسلامی تحریک۔ جمعیت علماۓ اسلام اور مجلس وحدت المسلمین کے نماٸندوں نے شرکت کی

پارلیمانی جماعتی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوۓ صوبائی وزیر قانون اورنگزیب ایڈوکیٹ نے کہا کہ گلگت بلتستان کو عبوری آٸینی صوبہ بنانا ہی واحد حل ہے جس سے مسٸلہ کشمیر کو نقصان نہیں پہنچے گا اور نہ ہی مسٸلہ کشمیر متاثر ہوگا سپریم کورٹ ک فیصلے پر من و عن عمل درامد ہونا چاہیے آٸینی عبوری صوبے کی جدوجہد میں ہم تحریک انصاف کا ساتھ دینے کے لیے تیار ہے اجتماعی مفاد ہمارا ایک ہے تحریک انصاف کو 2020 آرڈر کے متعلق علم نہیں ہے جبکہ 2018 آرڈر میں ہم شامل تھے۔ آرڈر 2009 کی بدولت ہم کونسل سے اسمبلی میں آۓ اور آرڈر 2018 کی وجہ سے ہمارے قدرتی وسائل کی قانون سازی کا اختیار جی بی کو منتقل ہوا۔ گلگت بلتستان سے متعلق سپریم کورٹ میں جو کیس کیے گٸے ہے ان میں آج تک صوبائی حکومت کو فریق نہیں بنایا گیا ہے اس کے باوجود ہم خود سپریم کورٹ گیے اور سرتاج عزیز کمیٹی کی شفارشات پر عمل درامد کہا کیونکہ جی بی اسمبلی نے سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات پر اعتماد کا اظہار کیا تھا۔

صوبائی صدر پیپلز پارٹی جی بی امجد ایڈوکیٹ نے کہا کہ کوٸی تسلیم کرے یا نہ کرے گلگت بلتستان متناذعہ علاقہ ہے مسٸلہ کشمیر کے حل تک جی بی میں لوکل اتھارٹی کا قیام عمل میں لایا جاۓ۔2020  آرڈر میں اختیارات پر قدغن لگایا جارہا ہے 2020 آرڈر کے نافذ ہونے سے گلگت بلتستان میں اسمبلی کی بجائے کونسل شپ کا سیٹ اپ رہ جاۓ گا۔ تحریک انصاف کی صوبائی قیادت کو آرڈر 2020 پر اعتماد میں لیا جاۓ پی ٹی آٸی کےصدر جعفر شاہ جی بی کے قوم کو گرداب سے نکالنے کے لیے میدان میں آۓ ہم بلا مشروط ساتھ دینگے اور معاملہ پارلیمنٹ میں جانے کی صورت میں پارلیمنٹ سے ووٹ دلانے کا وعدہ کرتا ہوں۔ 2020 ارڈر پر سپریم کورٹ میں بھی لڑینگے اگر ذبردستی نافذ کیا گیا تو صورتحال تلخ ہوگی۔ گلگت بلتستان میں 70 سالوں سے لوکل اتھارٹی نہیں ہے اور جی بی کی تاریخ میں 1947 سے 2009 تک نمائندوں کے پاس انتظامی اختیارات نہیں تھے 2009 میں عوامی نمائندوں کو انتظامی اختیارات ملے لیکن یہ ہماری منزل نہیں ہے کچھ اختیارات 2018 کے آرڈر میں بھی ملے لیکن 2020 آرڈر کے زریعے اختیارات چھینے جارہے جس کی مثال یہ ہے کی 18 مہینوں میں وفاق سے 10 بھرتیاں ہوٸی ہے سب کے سب نان لوکل ہے۔

اسلامی تحریک گلگت بلتستان کے سیکٹری جنرل شیخ مرزا علی نے کہا کہ ہر آنے والی جماعت آرڈر کا سہارا لے رہی ہے اور آرڈرز میں جی بی کی بجائے پارٹی کے مفادات کو ترجیح دی جاتی ہے اب آرڈروں کا تسلسل مشکوک ہوچکا ہے عالمی بدلتے حالات اور خطے کے مخصوص حالات کو سامنے رکھتے ہوۓ آرڈرز جی بی کو خودمختاری نہیں دے سکتے اور نہ مسائل حل ہوسکتے ہے ایٹمی طاقت ہونے کے باوجود جی بی کو آٸین میں شامل کرنے میں کیا مشکلات ہے افغانی بھی پاکستانی بن سکتے ہے تو ہم کیوں نہیں وفاقی حکومت کے قول و فعل میں تضاد ہے گلگت بلتستان کو آٸین پاکستان کے زمرے میں لاتے ہوۓ آٸینی تحفظ فراہم کیا جاۓ۔

 تحریک انصاف گلگت بلتستان کے کرنل عبید اللّٰہ بیگ نے کہا کہ آرڈر 2020 ابھی نہیں آیا ہے اور نہ دستخط ہوا ہے اور نہ کسی نے دیکھا ہے آرڈر 2020 سرتاج عزیز کمیٹی کی سفارشات سے بہتر بھی ہوسکتا ہے اگر کسی نے آرڈر کو دیکھا ہے اور اس میں دستخط کیا ہے تو سامنے لاۓ اگر یہ مسٸلہ سپریم کورٹ نہ جاتا تو اچھا فیصلہ ہوتا پیپلز پارٹی مسلم لیگ ن کو موقع ملا تھا وہ گنوا دیا ہے آج وفاق میں پی ٹی آٸی کی حکومت آٸی ہے تو تنقید کررہے ہے اور ماضی میں کشمیر سیل بنایا گیا تھا ہم جی بی سیل بنائیں گے کشمیر کا مسٸلہ حل ہوگا تو گلگت بلتستان کا مسٸلہ بھی حل ہو جائے گا۔

تحریک انصاف جی بی کے فنانس سیکرٹری پروفیسر اجمل حسین نے کہا کہ کاش 2000 تک ایسا کوئی فورم بیٹھا ہوتا تو آج گلگت بلتستان کو حقوق مل جاتے۔ انہوں نے کہا کہ سوشل میڈیا کی مہربانی سے آج یہ سب ہورہا ہے اس میں کسی سیاسی جماعت کا کوئی رول نہیں ہے انہوں نے کہا کہ مہینے دو مہینے یا ایک سال میں ہمیں بنیادی حقوق مل جائیں گے تو وہ ممکن نہیں ہے کیونکہ ہمیں پاکستان کھوکھلا کرکے دیا گیا ہے اس صورت حال میں وزیراعظم سب سے پہلے گلگت بلتستان کو فوکس نہیں کرسکتے ہیں بلکہ ملک ۔کو مستحکم کرنے کی کوشش کریں گے گلگت بلتستان سے ہم سب کو پیار ہے تمام جماعتوں کا حقوق لینے کا طریقہ کار الگ لگ ہے

رہنما مجلس وحدت المسلمین جی بی شیخ نیئر عباس مصطفوی نے کہا کہ ہمیں شناخت اور مقام چاہیے مقام اور حیثیت کے مقابلے میں آرڈر ددر ناک سزا ہے اپوزیشن میں جو ہوتا ہے وہ آرڈر کی مخالفت کرتا ہے اقتدار میں جو ہوتے ہے وہ خود آرڈر دیتے ہے اور خاموش رہتے ہے گورنر اور وزیراعلی آرڈر کو رد کرے اور علاقے کی نمائندگی کرے ہمیں محکوم غلام اور نوکر نہ سمجھا جاۓ ریاست کی جو مجبوری ہے وہ عوام کےسامنے لاۓ ایک قوم بننے کی ضرورت ہے پارٹیوں سے بالائے طاق ہوکر جو حق کہتا ہے اس کی حمایت کرنی چاہئے یہ آرڈر پے آرڈر ہمیں منظور نہیں ہے ہم بائے چانس پاکستانی نہیں بلکہ بائی چوائس پاکستانی ہیں آرڈر 2020 کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔

امیر جمیعت علمائے اسلام گلگت بلتستان مولانا عطاء اللّٰہ شہاب نے کہا کہ 70 سالوں سے گلگت بلتستان آٸین سے خالی ہے آرڈرز کے زریعے چلایا جارہا ہے ہمیں آرڈر نہیں آئین چاہئے ہمارا پہلا دوسرا اور آخری آپشن پاکستان ہے ہمیں دیوار سے لگانے کے بجائے سینے سے لگایا جائے