آہ۔۔۔ شیخ غلام حیدر نجفی

شیخ غلام حیدر نجفی

تحریر : محمد علی بہار نگری

علامہ شیخ غلام حیدر نجفی کی یادیں آج بھی ہمارے دل و دماغ میں پوری قوت کے ساتھ زندہ و جاوید ہیں۔ لاکھ کوشش کرنے کے باوجود ہم ان یادوں کے چراغوں کو بجھا نہیں سکتے۔

اے نجفی تیری رحلت سے فضا ہے سوگوار

قلب مومن غم زدہ ہے چشم انساں اشکبار

چاہنے والے تیرے غم میں رہیں گے اشکبار

یاد تیری دل کو تڑپاتی رہے گی بار بار

علامہ صاحب دینی و سیاسی میدان میں عصر آفرین و یکتائے زمانہ شخصیت کے مالک تھے۔ اللہ تعالی نے مختلف خوبیوں کو بدرجہ کمال ان میں اکٹھا کر رکھا تھا۔ مختلف اور منفرد خوبیاں اللہ تعالی نے ان کے قلب و جگر میں سمو رکھی تھیں۔ ایک طرف وہ سیاست کے میدان میں اپنی بے پناہ ذہانت و متانت، دلیل آفرینی، خوبصورت دل موہ لینی والی موشگافیوں، دوسری طرف عوامی جلسوں میں جب وہ اپنی شعلہ بیانی اور اثر انگیز تقریر کے جواہر کا مظاہرہ کرتے تو بے جان اور مردہ دل لوگوں میں ولولہ و جوش کی ایسی آمیزش پیدا ہوتی کہ اداسی اور مردہ دلی لوگوں سے چھٹ کر الگ ہوجاتی اور لوگ داد دئے بغیر نہ رہ پاتے۔

اے نجفی ولولہ انگیز تقریں تیری

روح جس نے قوم کے جسموں میں گویا پھونک دی

دوستوں کی محفل میں ہوتے تو ان کا انداز گفتگو اس قدر پر اثر ہوتا کہ ان کے نقطہ نظر سے شدید ترین اختلاف کے باوجود مخاطب کو اختلاف کا ایک نقطہ ادا کرنے کی جرات تک نہ ہوتی۔ دینی و ثقافتی تقریبات میں ایسے مگن ہوتے کہ اجنبی دیکھ کر ہرگز اندازہ نہ لگاسکتا تھا کہ یہ ایک مشیر یا سیاست دان ہیں۔ بلکہ اسی رنگ میں ڈھل جاتے جو رنگ وہاں ہوتا۔ علامہ ایک بار کسی کی حمایت میں قدم اٹھالیتے پھر پلٹ کر کبھی پیچھے نہ دیکھتے۔ جس کے مخالف ہوئے، زمانہ بھر اس کی توصیف میں لگ جائے ان کی مخالفت کی دیوار کو کوئی گرا نہیں پایا۔ علامہ صاحب ایک مضبوط و بااثر مشیر ہونے کے باوجود کرپشن کا کوئی داغ تک انہیں کبھی چھو نہ پایا۔ انہوں نے نہ صرف سیاسی میدان بلکہ عملی میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں ہیں۔ انہوں نے اپنے الہی فریضہ کی ادائیگی اور گلگت بلتستان کی امنگوں کی ترجمانی کرتے ہوئے علاقے آئینی حقوق کے لئے جدوجہد جاری رکھی اور برسراقتدار گروہوں کی مسلسل رہنمائی کرتے رہے۔

علامہ صاحب اٹھتے بیٹھتے اور دوران گفتگو اللہ اکبر کی صدائیں بلند کرکے اللہ کی بڑائی بیان کرتے رہتے۔ الغرض ان کی زندگی مختلف خانوں میں تقسیم تھی، ہر خانے کے بارے میں ایک ایک الگ کتاب لکھی جاسکتی ہے۔ ایک مضمون کسی طور پر ان کی شخصیت کا احاطہ نہیں کرسکتا۔ میری یہ تحریر تو ان سے میری محبت و عقیدت کا ادنی سا اظہار ہے۔

ملت اسلامیہ کا راہبر رخصت ہوا

اک جلیل القدر مرد حق نگر رخصت ہوا

یاد تیری دل سے ہرگز محو ہو سکتی نہیں

قوم کو ایسا جگایا ہے کہ سو سکتی نہیں

یہ اکتوبر 2009 کے سیاہ دن کی منحوس صبح کی کرب ناک گھڑیاں تھیں جب علامہ کی طبیعت اچانک ناسازگار ہوگئی۔ یہ خون رنگ اور دل کو چھید کردینے والی خبر ملی تو دل کی دھڑکن رک سی گئی۔ دکھ و کرب و رنج و ملال رگ رگ میں اتر کر جسم میں پھیل گیا۔ ان کی سلامتی کی دعائیں ہر لب پر آویزاں تھیں۔ ان کی رہائش گاہ پر پورے علاقے کا علاقہ امڈ آیا تھا۔ ایک اداسی کا عالم تھا جو ہر شخص کو لپیٹ میں لئے تھا۔ جیسے ہی خبر ملی خیریت معلوم کرنے کے لئے دوڑ پڑے۔ ڈاکٹرز اپنی سرتوڑ کوشش کے باوجود انہیں بچا نہ پائے۔ غم کے اٹے دلوں و اشکوں سے بھری آنکھوں اور کرب میں ڈوبے چہروں کو اپنے پیچھے چھوڑ کر وہ اپنے عالم بقا کی طرف رخصت ہوگئے۔

ان کا نماز جنازہ ان کے آبائی گاوں غلمت نگر میں ادا کیا گیا۔ جب ان کا جسد خاکی آخری آرام گاہ کی طرف لے جارہے تھے میں بھی ساتھ تھا۔ راستے میں ہر طرف لوگ ان کے آخری دیدار کے لئے بے تاب و بے قرار کھڑے تھے۔ جس نے آخری دیدار کیا نہ دل قابو میں رہا نہ ہی آنکھ، بے ساختہ دل سے آہ و فغاں نکلی، آنکھ پھر تھمنے کو نہ آئی۔ علامہ صاحب اپنی ذات میں ایک انجمن کی طرح تھے۔ جو کوئی ایک بار اس انجمن میں گیا متاثر ہوئے بنا رہ نہ پایا۔ ان سے ملاقات میں ان کی ایک ایک بات پر گھٹنوں گفتگو کرنے کے بعد بھی دل میں تشنگی بجھنے کو نہیں آتی۔ علامہ صاحب ہماری قوم کا ایک ایسا قیمتی اثاثہ و سرمایہ تھے کہ ہمیشہ ان کی کمی ہمارے درمیان موجود رہے گی۔

بارگاہ ایزدی میں دعا ہے کہ خداوند تعالی مرحوم کے درجات بلند فرمائے اور ان کی عملی، سیاسی اور فلاحی خدمات پر اجر عظیم عطا فرمائے۔ آمین

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here