شیخ محمد علی حیدر مرحوم

شیخ محمد علی حیدر

تحریر : امداد علی گھلو

شیخ محمد علی حیدر مرحوم ایک دیندار شخصیت، متواضع، ملنسار اور باوقار انسان تھے، قومی تحریک و قیادت سے انتہائی مخلص، دینی اور ملی امور میں پیش پیش رہتے تھے۔ محمد علی شیخ مرحوم نے اپنے والد مرحوم کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے قوم و ملت کے لئے بے تکان خدمات سر انجام دیں۔ محمد علی شیخ کا شمار جی بی کی قدآور مذہبی، سیاسی، سماجی اور تجارتی شخصیات میں ہوتا تھا اور آپ سابقہ مشیر خوراک و ممتاز عالم دین شیخ غلام حیدر نجفی مرحوم کے صاحبزادے تھے۔ ان کی ناگہانی موت پر گلگت بلتستان کے سیاسی، سماجی و مذہبی حلقوں نے رنج و دکھ کا اظہار کرتے ہوئے ان کی موت کو گلگت و بلتستان کے لئے ایک اچھے اور اہم لیڈر سے محروم ہونا قرار دیا تھا۔ آپ 2015ء کے عام انتخاب میں حلقہ 5 نگر 2 سے اسلامی تحریک پاکستان کے ٹکٹ سے رکن قانون ساز اسمبلی منتخب ہوئے تھے، قانون ساز اسمبلی جی بی میں اسلامی تحریک پاکستان کے پارلیمانی لیڈر بھی آپ تھے۔ محمد علی شیخ اعلیٰ پائے کے سیاستدان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مخلص اور ملنسار شخص تھے جنہوں نے اپنے طرز عمل سے نہ صرف اپنے حلقہ انتخاب بلکہ گلگت بلتستان بھر کے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی۔ جس طرح ان کے والد بزرگوار کو اس حلقہ انتخاب میں شکست دینا مشکل تھا اسی طرح شیخ محمد علی حیدر مرحوم اب اس پوزیشن میں تھے کہ قومی تحریک کی وہ سیٹ شیخ محمد علی کے ساتھ عجین ہو چکی تھی۔

مرحوم ایک اصول پسند، بالغ نظر، دُور رس اور دُور بیں سیاستدان تھے اور ہمیشہ گلگت بلتستان کے عوام کی ترجمانی کرتے رہے، آپ ایک بے مثال مدبر اور مستقبل پر نظر رکھنے والے انسان تھے، آپ کی ژرف نگاہی اور دقیقہ سنجی جس کو کام میں لاکر انہوں نے مستقبل کے پردہ میں جھانکنے کی کامیاب کوشش کی اور اپنے لئے جس راہِ عمل کا انتخاب کیا اس پر پوری عزیمت اور صدق دلی سے آگے ہی بڑھتے رہے۔ انسان دوست عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار یہ شخصیت جی بی میں روشنی کا اِک مینارہ تھے، آپ اہل علاقہ کے لئے ایک متحرک اور فعال سیاسی و سماجی خدمتگار کے روپ میں پہچانے جاتے تھے، آپ اُن مخیّر حضرات میں شامل تھے جو مخلوقِ خدا کی خدمت کو اپنا مشن بنائے ہوئے تھے، کوئی ضرورت مند آپ کے ڈیرے سے کبھی مایوس نہ لوٹا تھا۔
آپ نے تھانہ کچہری کی سیاست کے بجائے عوام میں مل بیٹھ کر اپنے مسائل خود حل کرنے کو اولویّت دی، آپ اپنے علاقہ میں کسی مسیحا سے کم نہ تھے بلکہ ایک با رُعب شخصیت کے مالک تھے۔ جرات و بہادری سے اپنا قومی موقف بیان کرنا اور اس پر بلا خوف و خطر ڈٹ جانا مرحوم کی خصوصیت تھی، ان کی ملّی خدمات قابل تحسین ہیں۔ ان کی خدمات کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا اور انہی خدمات کی بدولت قوم و ملت کو حاصل ہونے والی عزت و وقار قوم کے لئے سرمایہ افتخار ثابت ہو گا، ان کی گرانقدر خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بلا شُبہ ان کے خلا کو پُر تو نہیں کیا جا سکتا تاہم اُن کے عظیم مشن کو جاری و ساری رہنا چاہئے، شیخ محمد علی حیدر امن، محبت، رواداری، خلوص اور جذبہ خدمتِ خَلق کے آپ عظیم علمبردار تھے اور اپنے علاقہ کی معصوم، مظلوم اور مستحق طبقے کی پکار بھی یہ کار ہائے نمایاں ان کے کردار کی عظمت کو مزید دوبالا کرتے ہیں۔ شیخ محمد علی حیدر جیسے لوگ ملک و ملت کا عظیم سرمایہ ہوتے ہیں جن کے کردار کی روشنی سے ظُلمت کے گہرے اندھیرے بقائے نور میں شامل ہوجاتے ہیں، جن کے فکر و شعور کی مشعلوں سے پژمردہ انسانیت نئی زندگی پاتی ہے، جن کی قابل ستائش زندگی صبح نو کی نوید ہوتی ہے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here