شہدائے سانحہ کوہستان کی پہلی برسی، مگر قاتل آج بھی آزاد؟؟

سانحہ کوہستان

تحریر : سید تصور کاظمی

27 فروری 2012ء کو شاہرائے قراقرم پر راولپنڈی سے گلگت بلتستان کی جانب آنے والی مسافر بسوں کو روک کر باقاعدہ شناخت کے بعد 18 نہتے اور مظلوم شیعہ مسلمانوں کو یزیدی دہشت گردوں نے نہایت بیدردی کیساتھ شہید کر دیا تھا جس کے بعد گلگت بلتستان سمیت دنیا بھر میں اس عظیم اور دلخراش سانحے کے خلاف ملت جعفریہ سراپا احتجاج نظر آئی اور ملت جعفریہ گلگت بلتستان کی جانب سے گلگت شہر میں شہداء کی میتوں کیساتھ پورا ایک دن دھرنا دیا گیا جس کے بعد وفاقی وزیر داخلہ رحمان ملک کو حالات کی نزاکت کو دیکھتے ہوئے ہنگامی طور پر گلگت آنا پڑ گیا اور انہوں نے گلگت میں ملت جعفریہ کے عمائدین اور علماء کرام کے ساتھ مزاکرات کے بعد ملت جعفریہ کی طرف سے پیش کردہ چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی جس کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس میں حسب روایت بلند و بانگ دعوے کئے کہ سانحہ کوہستان میں ملوث دہشت گردوں کا نیٹ ورک بے نقاب ہو چکا ہے اور ہم دہشت گردوں کے نہایت قریب پہنچ چکے ہیں اور روایتی جھوٹی تسلیوں کیساتھ عوام کو ایک بار پھر وزیر موصوف اپنی مکارانہ چال کے زریعے کسی حد تک مطمئن کرانے میں کامیاب رہے اور مزاکرات کے بعد شہداء کی تدفین کا اعلان کیا گیا مگر اس سانحے نے گلگت بلتستان کے معاشرے پر نہایت دور رس اور منفی اثرات مرتب کئے اور سانحہ کوہستان کے بعد فرقہ واریت کی چنگاری ایک مرتبہ پھر علاقے میں آگ کے شعلے بڑھکانے لگی۔

مٹھی بھر شدت پسند و تکفیری گروہ نے اپنے غیر ملکی آقاوں کے اشاروں پر ستم بالائے ستم مزید شدت پسندانہ عزائم کا اظہار کرکے جلتی پر تیل کا کام شروع کر دیا مگر اس ساری صورتحال میں وفاقی حکومت، بیوروکریسی بالخصوص گلگت بلتستان کی نااہل صوبائی حکومت مجرمانہ خاموشی کا مظاہرہ کرتی رہی اور بجائے شدت پسندوں اور فرقہ پرستوں کیخلاف کاروائی کرنے کے ان کے دباؤ میں آکر توازن کی ظالمانہ پالیسی اپنائی گئی اور ظالم اور مظلوم کو ایک ہی صف میں کھڑا کیا جانے لگا اور اتنے بڑے سانحے کے بعد شاہرائے قراقرم کو محفوظ بنانے اور امن و امان کے قیام کیلئے ٹھوس اور عملی اقدامات اٹھانے کے اخباری بیانات کے علاوہ کوئی مؤثر اور عملی کاروائی عمل میں نہیں لائی گئی جس سے شدت پسندوں کی مزید حوصلہ افزائی ہوئی۔ صوبائی حکومت کی اسی مجرمانہ غفلت کا شاخسانہ ایک اور سانحہ چلاس کی صورت میں سامنے آیا جس کے بعد گلگت شہر میں کرفیو نافذ کرکے ستم بالائے ستم توازن کی ظالمانہ پالیسی کے تحت شدت پسندوں کیساتھ ساتھ دوسرے فریق کو خوش کرنے کیلئے ملت جعفریہ کے علماء کرام، عمائدین اور تنظیمی برادران کو بھی بلاجواز گرفتار کرکے پس زنداں ڈالا گیا اور ملت جعفریہ کیخلاف یکطرفہ کاروائیوں کا سلسلہ شروع کیا گیا۔

اس سے بڑھ کر نا انصافی اور کیا ہوسکتی ہے کہ ملت جعفریہ گلگت بلتستان کے نمائندہ پلیٹ فارم ’’ مرکزی انجمن امامیہ گلگت ‘‘ جو قیام پاکستان کے وقت سے ہی مکتب تشیع کی علاقائی سطح پر مذہبی، سیاسی و معاشرتی رہنمائی اور نمائندگی کرتا چلا آرہا تھا، اس نمائندہ پلیٹ فارم کو بھی توازن کی ظالمانہ پالیسی کے تحت نام نہاد صوبائی حکومت کی سفارش پر وفاقی وزارت داخلہ کی جانب سے ایک مقامی شدت پسند تنظیم کیساتھ موازنہ کراتے ہوئے پابندی عائد کرکے انجمن کے اراکین کیخلاف کریک ڈاؤن کرکے کئی عہدیداران کو ایم پی او کے تحت بلاجواز پابند سلاسل کیا گیا۔

حالانکہ یہ بات ریکارڈ پر موجود ہے اور مقامی اخبارات کا ریکارڈ اگر اٹھا کر دیکھ لیا جائے تو ثابت ہو جائیگا کہ مرکزی انجمن امامیہ گلگت اور امام جمعہ و الجماعت گلگت آغا سید راحت حسین الحسینی اور امام جمعہ و الجماعت دنیور گلگت و صدر شیعہ علماء کونسل گلگت ڈویژن علامہ شیخ مرزا علی اور مجلس وحدت مسلمین سمیت دیگر شیعہ علماء کرام اور تنظیموں کا سانحہ کوہستان کے بعد علاقے میں قیام امن کیلئے مثالی کردار رہا جس کا مختلف مکاتب فکر کے سیاسی، مذہبی اور سماجی رہنماؤں نے اپنے اخباری بیانات میں برملا اظہار بھی کیا۔ مگر اس کے باوجود شدت پسندوں کے دباؤ میں آکر اور محض سیاسی عزائم کے تحت ایک فریق کی خوشنودی حاصل کرنے کیلئے ظالم و مظلوم کو ایک ہی صف میں کھڑا کر دیا گیا۔ جس کا شاخسانہ چند ہفتوں بعد ہی سانحہ چلاس کی صورت میں سامنے آیا کہ جب گلگت شہر میں ایک کالعدم دہشت گرد تنظیم کی ہڑتال کی کال کے بعد ہونے والی معمولی ہنگامہ آرائی کو جواز بنا کر چلاس کے مقام پر مسافر کانوائے کو پولیس کی موجودگی میں روک کر نہتے اور مظلوم شیعہ مسافروں کو شناخت کرنے کے بعد نہایت بیدردی کیساتھ شہید کر دیا گیا۔

ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ سانحہ کوہستان کے فوراً بعد ہی صوبائی حکومت، وفاقی حکومت کی مدد سے کوہستان اور دیامر میں کالعدم دہشت گرد تنظیموں کے ٹھکانوں پر ٹارگٹڈ آپریشن کا آغاز کرتی مگر محض روایتی مذمتی بیانات اور جھوٹی تسلیوں پر ہی اکتفاء کیا گیا جس کا شاخسانہ اسی شاہراہ پر دو اور بڑے سانحات، سانحہ چلاس اور سانحہ لولوسر کی صورت میں سامنے آیا۔ آج گلگت بلتستان کی تاریخ کے اس دالخراش اور بد ترین سانحے، سانحہ کوہستان کو رونما ہوئے ایک سال کا طویل عرصہ گزر چکا ہے اور شہداء کا مقدس لہو پکار پکار کر ان ضمیر فروش حکمرانوں سے پوچھ رہا ہے کہ ہمارے قاتل کہاں ہیں؟ اور ہمیں کس جرم میں قتل کیا گیا؟ ساتھ ہی ملت کے ہر باشعور و با ضمیر انسان سے یہ سوال کر رہا ہے کہ کیا ہمارا لہو اتنا سستا تھا کہ ہماری پہلی برسی تک بھی ہمارے جنازوں کے طفیل پیش کئے جانے والے چارٹر آف ڈیمانڈ پر عمل درآمد تو دور کی بات ہمارے قاتلوں کا پوچھنے والابھی کوئی نہیں؟ ہے کوئی جو ہمارے ورثاء کو انصاف دلا سکے۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here