شادی بیاہ میں آسانی

آغا ضیاءالدین رضوی

شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی کے گلگت آنے سے پہلے علاقے میں شادی بیاہ میں ایسی رسومات تھی جو دین اسلام کے خلاف تھیں۔ مثلا شادی کی تقریبات میں ناچ گانے سمیت بے تحاشہ پیسوں کا استعمال وغیرہ۔ اس کے علاوہ شادی کو پر رونق بنانے یا شہرت بنانے کے لئے اپنی قلیل سی جائیداد کو لٹاتے تھے۔ علاوہ بر این نکاح کے دوران مہر حد سے زیادہ رکھتے تھے۔ شہید آغا ضیاءالدین رضوی نے جامع مسجد گلگت کی ذمہ داری سنبھالنے کے بعد علاقے میں ان غلط رسومات کے خلاف تبلیغ کی۔ شہید محرم الحرام کی مجالس اور دیگر اجتماعات میں ان کے خلاف وعظ و نصیحت کرتے تھے جس کی بدولت یہ ساری غلط رسومات ختم ہوگئیں۔ لوگ شہید آغا ضیاءالدین رضوی کی تبلیغ و وعظ سے متاثر ہوکر سادگی کے ساتھ شادی بیاہ کو اختتام تک پہنچانے لگے۔ ناچ گانے کا سلسلہ ختم ہوا۔ اپنی دولت کو لٹانے کے بجائے چند کلو مٹھائی سے مسجد میں مہمانوں کی خاطر تواضع کرنے لگے اور نکاح کے دوران مہر بھی مناسب رکھا جانے لگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here