شہید نوید حسین کی وصیت

شہید نوید حسین

میں نوید حسین ولد فدا علی اپنے ہوش و حواس کے ساتھ یہ وصیت نامہ تحریر کر رہا ہوں، امید ہے کہ میری موت کے بعد اس پر عمل کیا جائے گا۔ اللہ تعالٰی نے انسان کو بامقصد پیدا کیا ہے، انسان کو اپنے پیدائشی مقصد کو سمجھتے ہوئے ایک بامقصد زندگی گزارنی چاہیے۔ خواہ وہ مقصد کسی اجتماعی صورت میں نظر آئے یا انفرادی طور پر، انسان کو اس کا حصہ بننا چاہیے اور ضروری نہیں کہ ہر مقصد کی کامیابی ظاہری طور پر نظر آئے۔۔۔۔ میں گنہگار ضرور ہوں، توبہ کے بعد اللہ تعالٰی گناہ معاف کر دیتا ہے، یہ میرا یقین ہے۔ مگر آج جس سلسلے میں یہ حکمران میری جان لینے کے درپے ہیں، اس بات کے پیچھے اپنی جان دینا ذمہ داری اور فخر سمجھتا ہوں۔ اللہ، رسول ؐ اور چہاردہ معصومین (ع) کا دل سے اقرار و ایمان پہلا درجہ ہے اور ان کے بتاتے ہوئے احکامات اور نظام شریعت کے مطابق زندگی گزارنا مکمل ایمان سمجھتا ہوں۔ اس کے علاوہ جتنے طریقوں پر اسلامی روایات بنائی گئی ہیں، وہ باطل اور اسلام کو کمزور کرنے کے لئے سب سے خطرناک سازش ہیں۔ ایسے اقدامات یا ان کے پیچھے سرگرم لوگوں کو روکنا ہر مسلمان کی شرعی ذمہ داری ہے۔ خواہ یہ کوششیں اجتماعی سطح پر ہوں یا انفرادی سطح پر، اپنی حیثیت کے مطابق حصہ ڈالنا چاہیے۔ نیک مقاصد کے پیچھے اللہ تعالٰی کی خصوصی رحمت شامل حال ہوتی ہے۔ عزت و ذلت اللہ تعالٰی کے ہاتھ میں ہے، بس اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔ اللہ تعالٰی بحق پنجتن پاک ؐ میرے والدین، بہن، بھائیوں اور دیگر عزیزوں کو صبر و ہمت عطا کریں۔(آمین)

1۔ میری موت کے بعد میرے اس معاملے کا کسی اہل تشیع کو ذمہ دار قرار دے کر اس کی مخالفت نہ کی جائے۔ نہ ایسا کوئی اقدام اٹھایا جائے، جس سے کسی کی جان کو خطرہ ہو۔

2۔ میرا کسی بھی اہل تشیع کے ساتھ کوئی ذاتی تنازعہ نہیں ہے۔ ایک حق پرست اور مظلوم آواز کی حمایت کی بدولت مختلف مشکلات اور آزمائشوں سے واسطہ پڑگیا۔ ان مشکلات کو اپنی اخروی زندگی کے لئے کامیابی کا ذریعہ سمجھتا ہوں۔ اگر کوئی یہ سمجھتا ہے کہ میرے خلاف سازشیں اور رکاوٹیں پیدا کر دی گئی ہیں، تو میں اللہ تعالٰی کی رضا کی خاطر ان تمام شیعیان علی ؑ کو معاف کرتا ہوں، جو ان سازشوں کا حصہ بن چکے ہیں۔ میرے معاف کرنے کے بعد کسی کو یہ حق حاصل نہیں ہے کہ انتقام پر اتر آئے، خواہ میرا بھائی ہی کیوں نہ ہو۔ اللہ تعالٰی شہید مظلوم آغا سید ضیاء الدین کے درجات بلند فرمائے، جنہوں نے باطل قوتوں کے سامنے سر اٹھا کر چلنے کا ہنر سکھایا۔

3۔ میرے والد صاحب اگر مجھے اپنی وراثت کا حق دار سمجھتے ہیں تو والد صاحب کی رضامندی سے وہ مکان جو طاہر حسین ولد غلام عباس سے لیا گیا ہے، وہ لینا چاہتا ہوں۔ میرے اجر و ثواب کے لئے اس مکان کو اس طرح استعمال میں لایا جائے۔ میری موت کے بعد اگر میرے نام پر چندہ جمع ہو جائے تو اس رقم سے اس مکان کی اچھی طرح تعمیر کروائی جائے اور مکان کو رہائش یا کسی فلاحی کام کے لئے کرایہ پر دیا جائے۔ جو رقم جمع ہوگی، اس رقم کو ہر سال عزاداری امام حسین ؑ پر خرچ کیا جائے اور مکان کو غیر شرعی کاموں کے لئے استعمال میں نہیں لانا چاہیے۔ اس سلسلے میں جو اجر و ثواب ملے گا، اس میں میرے والدین بہنیں اور بھائی شامل ہونگے۔ دوران رہائش پانی، بجلی وغیرہ کا کوئی مسئلہ بن جائے اور دیکھا جائے کہ اگر واقعی اس میں مالک مکان کی ذمہ داری بنتی ہے تو کرایہ سے رقم ادا کرکے اس مسئلے کو حل کیا جائے۔۔۔۔۔ اس مکان کے تمام انتظامات کی ذمہ داری اپنی ماں کو دینا چاہتا ہوں۔ والدہ اپنے بعد جس کو دیں، یہ ان کی مرضی ہوگی۔۔۔ اگر اس سلسلے میں کوئی اختلاف پیدا ہو جائے تو یہ انتظامات مقامی مسجد کمیٹی یا پیش امام کے حوالے کیا جائے۔ مکان کو استعمال میں لانے کا طریقہ وہی ہوگا، ضروری ہے کہ عزاداری یا دیگر نیک امور کے لئے استعمال میں لایا جائے۔

4۔ میری قبر متعلقہ زمین کے وارثین سے رضا مندی حاصل کرنے کے بعد علاقے کے شہید علی جوہر اور شہید شہزاد خان کی قبروں کے ساتھ بنائی جائے۔ اگر یہ ممکن نہ ہوا تو پھر میری ماں کی رضا مندی سے جہاں ماں کہے ادھر ہی قبر بنائی جائے۔

5۔ میرے غسل و تدفین کے فرائض میرے ماموں شکور محمد اور شیخ علی حیدر ادا کریں۔

6۔ میری نماز جنازہ آغا راحت حسین الحسینی پڑھائیں، اگر کسی وجہ سے آغا صاحب کی شرکت ممکن نہ ہوئی تو بلتستان (اسکردو) والے جناب آغا علی رضوی میری نماز جنازہ پڑھائیں۔ یہ بھی ممکن نہ ہوا تو علاقے کے امام جمعہ و الجماعت پڑھائیں۔

7۔ جس قتل کے الزام میں مجھے پھانسی دی جا رہی ہے، اس قتل سے میرا کسی قسم کا کوئی تعلق نہیں ہے اور ستم یہ کہ عدالتی کارروائی میں میرے ساتھ انصاف کے تقاضے پورے نہیں کئے گئے ہیں۔ دوسرا ستم یہ کہ گلگت بلتستان ایک متنازعہ علاقہ ہے، یہاں کے معاملات کے فیصلے کا صدر یا وزیراعظم کو حق حاصل نہیں ہے۔ اگر موجودہ حکومت کو اس کا اختیار حاصل ہے تو پھر یہاں کے عوام کو بھی یہ اختیار حاصل ہونا چاہیے کہ ملک کے صدر یا وزیراعظم کو منتخب کرنے میں اپنی حق رائے دہی کا استعمال کرسکیں۔ اگر یہ حق نہیں دیا جاتا تو میرے خون کا مقدمہ موجودہ حکومت کے خلاف دائر کرکے اقوام متحدہ کی عدالتوں میں اپیل کی جائے۔

8۔ میری قبر پر سرخ علم مبارک نصب کیا جائے اور اس میں یہ تحریر کیا جائے:
العجل۔۔۔ لبیک یا صاحب الزمان ؑ

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here