3جون 2004 شہید تعلیم و تربیت کی گرفتاری اور شہید واجد میر کی قربانی کے مختصر حالات

شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی

3جون 2004  شہید تعلیم و تربیت کی گرفتاری اور شہید واجد میر کی قربانی کے مختصر حالات

وہ انقلاب کے دنوں کی مانند ایام تھے جب ہم حقوق کی جنگ کے لیے میدان عمل میں موجود تھے ہم اپنے آئینی و شہری حق کی خاطر پر امن احتجاج کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے جہد مسلسل میں مصروف تھے ، بدقسمتی سے ہمارے معاشرے کا المیہ رہا ہے کہ ہر مکتب فکر اپنی بالادستی پر بضد ہوتے ہوئے اس اہم نقطے کی جانب غافل ہوتا ہے کہ کہیں  دوسرے کی آزادی پر قدغن تو نہیں لگ رہا ، تحریک اصلاح نصاب ہمارے دوستوں میں بیشتر نے بس سنا ہی ہے البتہ اس کے اغراض و مقاصد کی سمجھ نہ ہونے کے برابر ہے ! مملکت خداد پاکستان میں بیرونی مداخلت ناقابل ردعمل رہا ہے جہاں اس عظیم مملکت کے بظاہر دوست نظر آنے والوں نے امداد کے نام پر مالی مدد کی وہی پر اپنا ایجنڈا نافذ کرنے میں بھی کوئی کسر باقی رہنے نہ دیا،  دن دگنی رات چوگنی ترقی کرنے والی یہ مملکت 75کی دہائی کے بعد نامساعد اور دگرگوں حالات سے گزرتا رہا  اور انہی ادوار میں رونماء ہونے والے حالات نے برصغیر میں ہمارے دو قومی نظریہ پر انگنت سوالات کھڑے کردیے جن کا جواب آج تک میسر نہ ہوسکا ،۔

نصاب تعلیم محض ٹیکنالوجی اور ترقی پر اجماع کا نام نہیں بلکہ یہ قومی وقار اور تشخص  کی ضمانت بھی ہوا کرتا ہے ، تدوین نصاب کے مراحل میں ہر مسلم فرقے کے عقائد کی وضاحت ان کے تشخص کی بقاء کے لیے ضروری امر ہے مگر خدا جانے یہاں پر اس جانب متوجہ ہونے کے  بجائے مخصوص مکتب فکر  کی ہی کیوں ترجمانی کی جاتی رہی ہے ! نظام حکومت سے لیکر نصاب تعلیم تک صرف ایک مخصوص عقیدے کی وضاحت باقی ماندہ اسلامی فرقوں کے تشخص پر باضابطہ تاریخی حملہ ہے جو مہذب دنیا میں ناقابل برداشت ہے !

اسی حساسیت کے پیش نظر علامہ سید ضیاء الدین رضوی نے ایک منظم پرامن تحریک کا آغاز سرزمین پاکستان کے شمالی علاقہ جات گلگت بلتستان سے کیا ، ان کے نزدیک جہاں پر ایک مسلم فرقے کے عقائد کو نصاب میں شامل تو کیا گیا تھا مگر خود ان کے عقیدے کی وضاحت نصاب تعلیم میں نہ شامل تھی نہ اساتذہ اس حوالے سے کوئی وضاحت کررہے تھے ! انھوں نے اپنے خطبات میں بارہا اس جانب توجہ مبذول کروائی اور ابتدائی دونوں میں ٹیبل ٹاک کے ذریعے ہر حکومتی شخصیت کے سامنے اپنا نکتہ نظر رکھا جسے تمام حکومتی شخصیت نے جائز اور انتہائی مناسب قرار دیتے ہوئے اقدامات کی یقین دہانی کرائی مگر ان شخصیات کی مثال مخمل کے دستانوں میں لوہے کے ہاتھ جیسی تھی ، ہر حوالے سے ناامید ہونے کے بعد انہوں نے اس مسلے کو عوام کے سامنے پیش کیا جس پر زعماء،  اکابرین،  دانشور،   اہل علم اور قلم نے اسے بخوبی سمجھا اور اس تحریک کا حصہ بن گئے ۔ آغا سید ضیاء الدین رضوی اس تحریک کے حوالے سے یہ کہا کرتے تھے کہ: ہمیں کسی کے عقیدے کو غلط یا صحیح ثابت کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ ہم آئین اور قانون کی روشنی میں اپنے عقیدے کی وضاحت چاہتے ہیں۔ شہید نے اس حوالے سے علماء اہلسنت کے ساتھ بھی رابطے کئے اور انہیں اپنے موقف سے باضابطہ طور پر آگاہ بھی کیا ، اور معتدل اور اہل علم شخصیات نے نہ صرف ان کے موقف کی تائید کی بلکہ اس دوران منتخب ہونے والے این اے 2کے ممبر اسمبلی اور مسلم لیگ گلگت بلتستان کے صوبائی صدر سیف الرحمن خان کی جانب سے شہید کی برملا حمایت پر انہیں قتل کردیا گیا جو اس علاقے کی نامور سیاسی شخصیت کے طور پر جانے جاتے تھے ۔ آغا سید ضیاء الدین رضوی نے اپنا موقف مولانا طارق جمیل ،مولانا لقمان حکیم جیسے زیرک علماء کے سامنے بھی رکھا ان محترم شخصیات نے کسی طور بھی ان کے موقف کی مخالفت نہیں کی ۔

تحریک اصلاح نصاب ملت جعفریہ اور حکومت کے مابین کا معاملہ تھا مگر بدقسمتی سے اہلسنت کے جذباتی اور جنونی اکابرین  اس مسلے میں فریق کے طور پر سامنے آئے جس پر آغا سید ضیاء الدین رضوی نے باضابطہ موقف پیش کرنے کے لئے وقت مانگا بدقسمتی سے ان اکابرین کی جانب سے ان کا موقف نہیں سنا گیا بلکہ آغا سید ضیاء الدین رضوی کی شخصیت کو انتہائی متعصب شخصیت کے طور پر اپنے حلقوں میں متعارف کروایا گیا جو اس عالمگیر شخصیت کے ساتھ شدید ناانصافی تھی !  بے جا پروپیگنڈے سے حالات کو مشتعل کرنے کی کوششیں جب تیز ہوتی دکھائی دئے  تو شہید نے اہلسنت کے جنونی اکابرین کو باضابطہ علمی مناظرے کی دعوت دی ان کے نزدیک یہ معاملہ اہل علم اور دانشوروں کے مابین ہونے والی ملاقاتوں سے حل ہوسکتا تھا مگر بدقسمتی سے ان اکابرین نے آغا سید ضیاء الدین رضوی کو نہ اپنے عقیدے کی وضاحت کا موقع دیا اور نہ ہی اپنے آئینی  و شہری حقوق پر دلائل پیش کرنے کا موقعہ دیا ۔  دوسری جانب ملت جعفریہ کو بھی اس حساس مسلے کی سنجیدگی کا احساس ہوچکا تھا اور طلباء کسی طور بھی نصاب میں عقیدے کی وضاحت کے بنا کلاسس لینے پر آمادہ نہ تھے ، طلباء اسمبلی کے فوراً بعد احتجاج پر نکل جایا کرتے اور انتہائی  پرامن انداز میں اپنا موقف پیش کرتے ہوئے سراپا احتجاج ہوا کرتے تھے ،۔

مجھے یاد ہے کہ ہر طبقہ سے تعلق رکھنے والے افراد نے اس معاملے میں احتجاج کے دوران آغا سید ضیاء الدین رضوی سے وقت مانگا اور انہوں نے خوش اسلوبی کیساتھ انہیں وقت بھی دیا تاکہ معاملہ حل ہوسکے۔  اس حوالے سے اسماعیلی مکتب فکر کے زعماء کا ذکر خصوصیت کے ساتھ کیا جانے کا قابل ہے انہوں نے بھی اس موقف کو من عن صحیح مانتے ہوئے کردار ادا کیا ۔  بار بار کے احتجاج کے باوجود جب حکومتی عدم توجہی ثابت ہوئی تو آغا سید ضیاء الدین رضوی نے 1جون 2004کو تاریخی احتجاج کا اعلان کیا ، ہم صبح کے وقت اس احتجاج میں شامل ہوئے۔  آغا سید ضیاء الدین رضوی نے احتجاج کے آغاز پر طلباء سے پرامن رہنے کی گزارش کرتے ہوئے یہ تک کہا کہ اگر حکومت ہم پر گولیاں بھی چلائے تو ہم نے پرامن رہ کر اپنا مطالبہ پیش کرنا ہے احتجاجی جلوس مسجد سے باہر نکل کر ابھی گرلز ہائی اسکول کے پاس پہنچا  ہی تھا کہ قائدین کی جانب سے روکنے کے احکامات صادر ہوئے ، اسماعیلی ریجنل کونسل کے اکابرین نے ایک بار پھر وقت مانگتے ہوئے احتجاج کو ایک دن موخر کرنے کی گزارش کی جس پر آغا سید ضیاء الدین رضوی نے احتجاج کو ان کے احترام میں دو دن موخر کرنے کا اعلان کیا۔

  ادھر یہ یقین ہونے لگا کہ حکومت اس بار اس مسلے پر توجہ دیکر معاملہ حل کرائے  گی مگر پھر 3 جون کی رات کو آغا سید ضیاء الدین رضوی کے گھر کو چاروں اطراف سے گھیر کر انہیں گرفتار کرنے کے لیے فورسز کی بڑی تعداد موقعے پر پہنچ گئی۔ مگر بیدار ملت کے ہزاروں جوان چند ہی لمحوں میں اس جانب پہنچ گئے اور حکومت گرفتار کرنے میں ناکام رہی ۔  مجھے اس بات پر آج بھی حیرت ہوتی ہے ہزاروں جوانوں کی موجودگی میں جہاں حکومت اپنے منصوبوں میں ناکام ہوچکی تھی آغا سید ضیاء الدین رضوی اپنی گرفتاری پر بضد تھے ، ان کے گھر سے لیکر مین  روڈ پر جوان روڈ پر لیٹ کر انہیں جانے نہیں دے رہے تھے مگر ان جذبات سے قطع نظر وہ اپنی گرفتاری کو یقینی بنانے پر تاکید کررہے تھے ۔  بہرحال جیسے تیسے سید کی اپنی خواہش پر وہ گرفتار کرلیے گئے اور شاید جن کا موقف مضبوط ہو وہ شخصیات گرفتاریوں سے نہیں ڈرتی ہونگی ۔  انہوں نے گرفتاری سے قبل بھی اپنی قوم سے قانون کے احترام پر بات کرتے ہوئے انہیں اس جانب ترغیب دی ۔  اگلے دن صبح ہوتے ہی یہ خبر جب دیگر علاقوں تک گئی تو حالات اور پیچیدہ ہوگئے ہر ممکن کوشش اور کرفیو کے باوجود بھی احتجاج پھیل گیا اس اثناء میں خومر کے قریب ہونے والے احتجاج پر فائرنگ کے نتیجے میں واجد حسین میر نامی نوجوان اپنے عقیدے کے دفاع میں شہید کر دیئے گئے !

آغا سید ضیاء الدین رضوی کی تحریک اور واجد میر کی قربانی اس عزم کا عکاس تھی کہ اسلام پر سب کچھ قربان کیا جاسکتا ہے مگر اسلام کو کسی چیز پر قربان نہیں کیا جاسکتا ، اور نظریاتی محاز پر مضبوط دلائل رکھنے والی شخصیت ہی نہ مقتل سے خوف ذدہ ہوتی ہے اور نہ گرفتاریوں سے ڈرتی ہے بقول شاعر

مقتل کو جس دہج سے گیا وہ شان سلامت رہتی ہے

یہ جان تو آنی جانی ہے اس جان کی کوئی بات نہیں

شہید واجد حسین میر تحریک اصلاح نصاب کے پہلے شہید ہیں۔  ان کے بابرکت خون کی بدولت نصاب سے متعلق ایک عبوری فارمولا طے کیا گیا جس میں شیعہ عقیدے کی وضاحت کو  اداروں میں لازمی قرار دیا گیا تھا ،  جب ان حالات کی طرف نظر جاتی ہے تو یہ بات سمجھ آتی ہے کہ لیڈر اگر گرفتاری سے خوف زدہ نہ ہوتو کامیابی قوموں کا مقدر ہے ۔

شہید واجد میر کو سلام عقیدت