3 جون 2004

شہید آغا سید ضیاءالدین رضوی

3 جون 2004

تحریر:  شیخ مرزا علی

میری زندگی کا ناقابل فراموش دن تھا ہے اور رہے گا   اگر چہ شہید مظلوم آغا ضیاء الدین رضوی کی صحبت کے تقریبا آٹھ سال کو میں اپنی مکمل زندگی سے تعبیر کرتا ہوں اگر آج کوئی مجھ سے میری عمر کا سوال کرے تو بقول حضرت نعمان بن ثابت میں آٹھ سال کہنے کا حق رکھتا ہوں زمانہ طالب علمی میں جو عمر کٹی وہ تھیوری کی حیثیت رکھتی ہے لیکن عملی تعلیم انسان کیلئے اصل سرمایہ ہوتی ہے جس میں کتاب پر نظریں گھڑی نہیں ہوتیں ورق گردانی نہیں ہوتی کبھی تحریر کبھی استاد پر نظریں مرکوز نہیں ہوتیں نہ حافظہ کی تقویت کیلئے رٹ لگانے یا گردان کرنے کی نوبت آتی ہے بلکہ سب کچھ نظروں میں ایسے نقش ہو جاتا ہے ذہن میں لکیر بن جاتی ہے شہید آغا کی صحبت میں بہت کچھ سیکھنے سکھانے کا ہنر ہاتھ آیا میں جب حوزہ علمیہ قم سے پلٹا تو 1996 کے آخری دن تھے تب قومی سطح پر قیادت کے حوالے سے کہیں پر کھینچا گیا نقشہ سماج میں اتارا جا چکا تھا اور کئی اذہان اکھڑ چکے تھے جو نہیں اکھڑے تھے عبا کی جیب میں ایک غیر شرعی تصویر بطور ہتھیار استعمال ہو رہی تھی لیکن شہید سے جہاں سیکھنے کو بہت کچھ ملا وہاں عقیدہ کی ایسی پختگی کی پرچھائیاں میسر آئیں جو کسی بھی مرحلہ میں ساتھ نہیں چھوڑ سکتی اور ایسے سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی حیثیت رکھنے والی شخصیت کی گرفتاری کا فیصلہ ہو چکا تھا 2 جون کو جامع مسجد امامیہ گلگت کی مغربی جانب ایک گھر میں رات گئے تک 3 جون کے کفن پوش مظاہرہ کی منصوبہ بندی اور ممکنہ حکومتی اقدامات پر طویل مشاورت ہوئی جس میں اس کا قوی امکان موجود تھا کہ نصاب تعلیم کی جاری تحریک کے سامنے حکومت لاجواب ہو چکی ہے اور طاقت کے استعمال کے سوا کوئی چارہ کار نہیں رکھتی ہے سب کیلئے قابل قبول نصاب ایک ایسا نعرہ تھا جس کو متعلقہ ادارے مسترد نہیں کر سکتے تھے لیکن ملک پر حاوی متعصب ذہنیت جس کی بنیاد بھٹو دور میں رکھی جا چکی تھی اپنے عزائم کے حصول میں کسی بھی حد تک جانے کی ٹھان چکی تھی نصف شب گذر چکی تھی صبح کے مظاہرہ کی منصوبہ بندی اور ممکنہ سرکاری اقدام پر غور و خوص کے بعد اجلاس برخاست کیا گیا اور مدرسہ جعفریہ مجینی محلہ میں صبح کی نماز سے فراغت پائی تھی قزلباش محلہ کے لمبے قد کا ایک شخص بائیک پر آیا اور اطلاع دی کہ آغا صاحب کو گھر سے سرکاری تحویل میں لیا جا چکا ہے انہی دنوں مرحوم محمد افضل ڈی ایف او صاحب کی ضعیف العمری کے سبب مرکزی انجمن امامیہ کی صدارت سے سبکدوش ہوئے تھے تو شہید آغا ضیاء الدین نے مجھے صدارت کے عہدے پر نامزد کیا تھا مرحوم کا عرصہ صدارت بھی مشکل ترین حالات میں گذرا کئی نشیب و فراز آئے اور افضل صاحب نے ہر کٹھن وقت میں استقامت دکھائی نصاب تعلیم کا پورا تین سالہ اضطرابی دورانیہ آپ ہی کی صدارت میں جاری رہا . بحیثیت صدر انجمن حالات کا جائزہ لینے ایک عرصہ تک ملت کے دلوں پر حکمرانی کرنے والے بیت الرضوی پہنچا تب تک کرفیو نافذ ہو چکا تھا حالات سے واقفیت اور گرفتاری کے وقت مجمع کو کی جانے والی نصیحت کہ صدر انجمن ان تمام معاملات کی نگرانی کرے گا میں گرفتاری کو عبادت سمجھتا ہوں لذا میری عبادت میں رکاوٹ نہ ڈالیں شہید کے اعتماد کا سن کر آنسو بھی نکلے اور حوصلہ بھی ملا اور گلیوں سے ہوتا جامع مسجد پہنچا رابطے شروع ہوئے پہلی کال پنڈی سے موصول ہوئی اور لائن پر آواز ایسی شخصیت کی تھی جسے سماج دھرنوں اور ٹاک شوز میں دیکھنا چاہتی ہے لیکن وہ اپنا فرض الٰہی مشن کی تکمیل کے طور پر ادا کرتا آیا ہے بہر حال گلگت بلتستان کے طول و عرض اور ملکی سطح پر ٹیلیفونک رابطے کا سلسلہ جاری تھا کہ شہر کی فضاء میں گولیوں کی سنسناہٹ کی صدائیں گونجنی لگی یہ مرحلہ ناقابل برداشت تھا ۔

مسجد کے لاؤڈ اسپیکر کھولنے پڑے اور صدر انجمن کا پیغام نشر کیا جس کے بعد ایک دم سکوت چھا گیا اسی اثناء میں دنیور میں حلقہ تین کا اجتماع ہونے لگا پورا گلگت اس بات پر مشتعل تھا حکومتی سطح پر نصاب تعلیم میں سراسر انصافی بھی کی گئی پھر آغا کو بلاجواز گرفتار بھی کیا گیا دنیور کا اجتماع بڑھتا گیا  اور گلگت شہر کی طرف بڑھنا شروع ہوا پولیس ٹریننگ سنٹر سے مجمع پر شیلنگ اور ہوائی فائرنگ کی گئی جس پر مشتعل ہجوم بپھر گیا اور پولیس اور عوام کیلئے میدان جنگ بن گیا دنیور مرکزی مسجد کو پیغام بھجواکر مجمع کو واپس دنیور لایا گیا اسی اثناء میں نگر سے ایک بڑا جلوس میں دنیور اجتماع میں شریک ہو گیا اور باقاعدہ دھرنے کی صورت اختیار کر گیا جس کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ آغا کی گرفتاری بلا جواز ہے لذا فوری طور پر رہا کیا جائے ہیراموش میں بھی مظاہرین نے روڈ بلاک کیا اور حکومتی بلا جواز اقدام کے خلاف مظاہرہ کیا . اسی دن جب آغا کو گرفتار کیا گیا واجد حسن میر بھی حکومتی ظالمانہ اقدام کے خلاف اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے ڈی سی آفس کے پاس پہنچا تھا سرکاری اہلکاروں نے نشانہ پر لیا اور موقع پر ہی ظلم کا شکار بن گیا ایک شینا کہاوت کے مطابق حکومت ہمیشہ ایک آنکھ سے دیکھتی رہی اور عوامی غیظ و غضب کا اندازہ نہیں کر سکی عوام کو مشتعل دیکھ کر شہید کے ایک وفادار ساتھی کو ایک اندھے قتل کے بلا ثبوت الزام میں گلگت سے گرفتار کر کے راولپنڈی منتقل کر دیا گیا یہ وہ سازش تھی جس کے ذریعہ نصاب تعلیم کی آئینی و قانونی تحریک کو سبوتاژ کرنے کے ساتھ تکفیری دہشت گرد گروہوں کو کھلی چھوٹ دینا مقصد تھا جس کا آغاز سرکاری سرپرستی میں جون 2004 کو کر دیا گیا جس کے بعد پے در پے سانحات وقوع پذیر ہوئے . عوامی غیظ و غضب کے سامنے حکومت بے بس ہو چکی تھی لیکن موقع بھی ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتی تھی اس لئے نصاب تعلیم کے حوالے سے ایک تحریر پیش کی گئی اور گلگت کے قد آور سیاسی و سماجی شخصیات کو شھید کے پاس کینٹ تھانہ میں بھیجا گیا اور مکتوب پیش کیا جس کو شھید نے معقول قرار دیا لیکن دستخط کرنے سے معذرت کی اور کہا کہ میں اس وقت سرکاری تحویل میں ہوں سرکاری فورس کے نرغہ میں ہوں میں یہ نہیں چاہتا کہ ایسا پیغام جائے کہ ضیاء الدین نے دباؤ کے نتیجہ میں دستخط کئے ہیں پھر وفد نے درخواست کی کہ دنیور کا دھرنا منتشر کروائیں اگر اس تحریر کو آپ معقول قرار دیتے ہیں تب شہید نے کہا دھرنے تک میرا پیغام آپ کی وساطت سے جائے گا تو دباؤ کا تاثر قائم ہو گا اس لئے صدر انجمن شیخ میرزا علی کو مجھ تک رسائی دیں میں ان کے ذریعہ پیغام پہنچانا چاہتا ہوں اس طرح شہید نے کچھ مشاورت اور نصیحت کے بعد اپنے ہاتھوں سے تحریر لکھی جو مجمع کو سنایا گیا اور دھرنا ختم کرنے کا اعلان ہوا لیکن شہید کی رہائی عمل میں نہیں لائی گئی تھی کینٹ تھانہ سے گرفتار شدگان کو سب جیل جٹیال منتقل کیا جا چکا تھا شہر میں کرفیو بھی بدستور تھا کچھ دنوں بعد دن کا کرفیو اٹھایا جا چکا تھا ہم تک یہ خبر پہنچی کہ وزیر امور کشمیر آفتاب شیر پاؤ نے رہائی کیلئے وفاقی کابینہ کی منظوری کی شرط رکھی ہے یہ خبر ہم پر آسمانی بجلی کے مانند گری جامع مسجد میں ایک اجلاس منعقد ہوا اور گرفتار شدگان کی عدم رہائی پر سخت تشویش کا اظہار ہوا مرحوم شیخ غلام حیدر مشیر خوراک تھے حاجی فدا ناشاد ڈپٹی چیف ایگزیکٹو تھے شیخ صاحب کو لے کر چیف سکریٹری آفس پہنچا چیف سکریٹری نے اس خبر کی تصدیق کی کہ معاملہ وفاقی کابینہ میں اٹھانے کا فیصلہ ہو چکا ہے پھلی بار شیخ حیدر کو اس لہجے میں اپنی آنکھوں سے دیکھا جس کے بارے میں سنتا آیا تھا اسی اثناء میں آفتاب شیر پاؤ کو خبر دی گئی شیرپاؤ نے شیخ صاحب سے فون پر بات کی تو شیخ نے ایک جملہ کہا شیرپاؤ صاحب میں آپ کا مشیر ہوں میں وہی مشورہ دوں گا جس میں آپ کی خطہ کی اور ملک کی بھلائی ہو آپ اپنا فیصلہ کرو ہم جا رہے ہیں اپنا فیصلہ کرنے یہ کہہ کر کرسی سے اٹھے مجھے بھی کہا چلو ان کو اپنا فیصلہ پہنچا دیں گے دروازہ تک پہنچے تھے انسپکٹر جنرل پولیس بھی پہنچے ہمیں واپس بٹھایا اور پشتو میں باہمی گفتگو کے بعد ہمیں کہا کہ آج رات بغیر ہجوم کے گرفتار شدگان کو لے کر جائیں۔